اے این پی: صوبائی حقوق کیلیے احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی نے سنیچر کو صوبائی حقوق کے حق میں ایک احتجاجی کیمپ منعقد کیا۔ احتجاج کا بنیادی مقصد ضلع کرک سے ملنے والی قدرتی گیس اور تیل کو مقامی آبادی کو پہلے فراہم کرنے کا مطالبہ ہے۔ پشاور پریس کلب کے سامنے لگائے گئے اس کیمپ میں جماعت کے مرکزی و صوبائی قائدین اور کارکنوں کے علاوہ ضلع کرک کے لوگوں نے شرکت کی۔ کیمپ کو پشتو زبان میں لکھے مختلف مطالبات اور نعروں سے سجایا گیا تھا۔ ان میں سے ایک میں صوبائی حکومت پر قبضے کی مذمت کی گئی تھی۔ کیمپ میں پشاور کے صحافی سہیل قلندر کے اغوا اور امن عامہ کی صورتحال پر بھی احتجاج کیا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما حاجی غلام احمد بلور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بجلی اور تمباکو جیسے وسائل پر صوبے کو اس کے حقوق سے محروم کیا گیا اور اب ضلع کرک میں گرگری کے مقام پر ملنے والی قدرتی گیس اور تیل سے اس صوبے کو دور رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں سے ملنے والی گیس حکومت پنجاب لے جا رہی ہے تاہم مقامی آبادی اب بھی اس سے محروم ہے۔ ’ملتان اور فیصل آباد کے کارخانوں تک یہ گیس پہنچ چکی ہے لیکن کرک کی مقامی آبادی کو گھر کے استعمال تک کے لیے یہ فراہم نہیں کی جا رہی‘۔ اے این پی کے رہنما نے اس بابت متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت پر بھی تنقید کی کہ اس نے یہ معاملہ وفاق کے ساتھ مناسب انداز میں نہیں اٹھایا۔ تاہم سرحد حکومت یہ تسلیم کر چکی ہے کہ وفاق، گیس پر رائلٹی کی مد میں اسے سالانہ کوئی دو ارب روپے دے رہا ہے۔ اے این پی کے مطابق اب تک کم از کم 142 ملین مکعب گیس ضلع کرک اور کوہاٹ سے نکال کر پنجاب اور کراچی پہنچائی جا رہی ہے۔ یہ ایک روزہ احتجاج بعد میں پرامن طریقے سے ختم ہوگیا۔ | اسی بارے میں کالاباغ کااعلان،اے این پی کی دھمکی17 December, 2005 | پاکستان ’ کالاباغ ڈیم کسی صورت نہیں بنےگا‘26 December, 2005 | پاکستان خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے03 March, 2005 | پاکستان سینٹ کا الیکشن نہیں لڑیں گے17 April, 2005 | پاکستان پشاور و قبائلی علاقوں میں احتجاج03 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||