خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عوامی نیشنل پارٹی کے برطرف کئے جانے والے صوبائی جنرل سیکریٹری فرید طوفان نے ایک اخباری کانفرنس میں یہ الزام لگایا کہ جماعت میں موجودہ بحران کے پیچھے خفیہ ایجنسوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران کا مقصد جماعت کو کالا باغ ڈیم کے اعلان کے بعد اس کے خلاف اے این پی کی تحریک کو کمزور کرنا ہوسکتا ہے۔ یاد رہے کہ جنرل مشرف نے بدھ کو نوشہرہ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر کالا باغ ڈیم کے متنازعہ منصوبے پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ پختون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کالا باغ ڈیم کو پختونوں کی ’زندگی اور موت’ کا مسلہ قرار دیتے ہیں۔ اس منصوبہ پر کام روکنے کے لیے وہ اپنی جان تک قربان کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اس جماعت کے مطابق کالا باغ ڈیم کا تنازعہ ختم طے ہو گیا ہے اور اس پر وہ مزید بات چیت کے لیے بھی بظاہر تیار نہیں۔ سرحد میں ڈیم مخالفت میں اے این پی یقینا پیش پیش ہے لیکن دیگر سیاسی جماعتیں جن میں حکمران دینی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل بھی شامل ہیں۔ لہذا ڈیم پر کام کا آغاز صوبے میں ان سیاسی قوتوں کی مخالفت کی موجودگی میں کافی مشکل نظر آ رہا ہے۔ سندھ اور سرحد میں عوامی جلسوں کا مقصد بظاہر صدر پرویز مشرف کا ان سیاسی جماعتوں کو بائی پاس کرتے ہوئے عوامی سطح پر اس منصوبے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ ان مواقعوں پر صدر اپنا موقف عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں، ان کے خدشات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے مفادات کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہوگا اور یہ کہ ’میں ہوں نا‘ آپ مجھ پر اعتبار اور اعتماد کریں۔ پختونوں کو بظاہر اپنایت کا احساس دلانے کے لیے وہ نوشہرہ کے جلسے میں خصوصی طور پر شلوار قمیض پہن کر شریک ہوئے اور انہوں نے پشتو کے دو چار الفاظ بھی استعمال کرنے کی کوشش کی۔ یہ زبان اور لباس کا استعمال یقین سب محض اتفاق یقینا نہیں تھا۔ جلسے کے دوران وہ بار بار پختونوں کے مذہبی رجحان اور بہادری جیسی خصلتوں کا ذکر کرتے رہے۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی صوبائی سطح پر اٹھنے والے بحران سے متاثر ضرور ہوئی ہے۔ سیاسی مبصرین خیال کر رہے تھے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے متوقع اعلان سے عوامی نیشنل پارٹی مضبوط اور مذہبی قوتیں کمزورہوں گی۔ اے این پی سٹریٹ پاور حرکت میں لا سکے گی اور ایم ایم اے حکومت میں ہونے کی وجہ سے زیادہ کھل کر مخالفت نہیں کر سکے گی۔ لیکن گزشتہ چند روز کے واقعات سے محسوس ہوتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ صدر پرویز مشرف خود عوام کو آئندہ بلدیاتی انتخابات میں روشن خیال اور اعتدال پسند افراد کو منتخب کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ ایسے میں کون سی جماعتیں فائدہ اٹھا سکیں گی کہنا کچھ مشکل نہیں۔ صدر نے بظاہر اپنی حلیف مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی شیرپاؤ کے لیے انتخابی مہم بھی ان عوامی اجتماعات سے شروع کر دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پہلے کالا باغ ڈیم کا اعلان ہوتا ہے یا بلدیاتی انتخابات ملک میں منعقد کروائے جاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||