عوامی نیشنل پارٹی میں توڑ پھوڑ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی ایک بڑی سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی اندرونی اختلافات کا شکار ہوگئی ہے۔ صوبائی جنرل سیکریٹری ان کے رویہ کے خلاف جائنٹ سیکٹری کے تازہ استعفے سے مستعفی ہونے والے عہدیداروں کی تعداد اب پانچ ہوگئی ہے۔ پختون قوم پرست کہلانے والی جماعت عوامی نیشنل پارٹی میں تازہ پھوٹ صوبائی جنرل سیکٹری فرید طوفان کی وجہ سے پڑی ہے۔ کئی پارٹی عہدیداروں نے جن میں صوبے کے سینئر نائب صدر عاقل شاہ، نائب صدر عمران آفریدی، سیکٹری اطلاعات میاں افتخار حسین اور جائنٹ سیکٹری حسین شاہ یوسف زئی نے فرید طوفان کے رویہ کے خلاف بطور احتجاج استعفے پیش کر دیے تھے۔ جبکہ آج جمعہ ر جائنٹ سیکریٹری نوید ایڈووکیٹ کے مستعفی ہونے سے یہ تعداد اب پانچ ہوگئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اے این پی کے اندر اختلافات کافی عرصے سے موجود تھے لیکن گزشتہ دنوں صوبائی صدر بیگم نسیم ولی خان کی علالت کی وجہ سے رخصت پر چلے جانے سے ان میں مزید شدت آئی ہے۔ ان رنجشوں کو دور کرنے کے لیے کل صوبائی کابینہ کا ایک اجلاس بیگم نسیم ولی خان کی سربراہی میں پشاور میں منعقد ہوا لیکن اس میں معاملات سلجھ نہیں سکے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں کافی گرماگرمی دیکھی گئی۔ مستعفی ہونے والے عہدیداروں نے اپنے استعفوں میں جنرل سیکریٹری پر منفی اور جارحانہ رویہ اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی ناراضگی کو ظاہر کرنے کا یہ ان کا جمہوری حق تھا۔ اس وقت جماعت فرید طوفان کے حلیف اور حریف دو واضع گروپوں میں بٹ چکی ہے۔ ناراض عہدیداروں کو منانے کے لیے کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے لیکن ابھی اس میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی ہے۔ بعض مبصرین اسے عوامی نیشنل پارٹی کی تاریخ کا بدترین بحران قرار دے رہے ہیں۔ البتہ ایک منظم جماعت سمجھی جانے والی اے این پی میں اختلافات کم ہی سامنے آتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||