BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 October, 2003, 03:26 GMT 07:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: نیشنل پارٹی کا قیام

بلوچستان اسمبلی
بلوچستان اسمبلی میں دونوں جماعتوں کے ارکان کی تعداد پانچ ہے

بلوچستان نیشنل موومنٹ اور بلوچستان نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی نے انضممام کا اعلان کرتے ہوئے ایک نئی سیاسی جماعت قائم کی ہے جس کا نام نیشنل پارٹی رکھا گیا ہے۔

دونوں جماعتوں کا تنظیمی ڈھانچہ ختم کرکے ایک تینتیس رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے جو جماعت کے انتخابات منعقد کرائے گی۔

بلوچستان نیشنل موومنٹ کے قائد ڈاکٹر عبدالحئی اور بلوچستان نیشنل ڈیموثریٹک پارٹی کے لیڈر حاصل بزنجو نے آج مشترکہ پریس کانفرنس میں نئی جماعت کا اعلان کیا ہے ڈاکٹر عبدالحئ کو نئی جماعت کا چیف آرگنائزر مقرر کیا گیا ہے جبکہ حاصل بزنجو ڈپٹی آرگنائزر ہوں گے۔

ایک تینتیس رکنی آرگنائزنگ کمیٹی ترتیب دی گئی ہے جو تین ماہ کے اندر مرکزی کنونسن طلب کرکے جماعت کے انتخابات منعقد کرائے گی۔

ڈاکٹر عبدالحئی نے اس موقع پر کہا ہے کہ نیشنل پارٹی قومی سطح پر ترقی پسند اور عوام دوست جماعتوں کے ساتھ مل کر حقیقی جمہوری نظام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کرے گی انھوں نے کہا ہے کہ یہ جماعت کارکنوں پر مشتمل ہوگی جس کے نظریات سیکولر ہوں گے اور جو حقیقی طور پر ملک اور قوم کی خدمت پر یقین رکھے گی۔

حاصل بزنجو نے کہا ہے اس انضمام کے لیے کوششیں جاری تھیں اور اس دوران دیگر جماعتوں جیسے نواب اکبر بگٹی کی جمہوری وطن پارٹی اور سردار اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی کو بھی انضمام کی دعوت دی گئی تھی لیکن انھوں نے اس سے تو معذرت کی ہے لیکن حقوق کی جنگ کے حوالے سے مشترکہ کوششوں کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اس وقت بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان نیشنل موومنٹ کے ارکان کی تعداد چار ہے جبکہ بلوچستان نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے واحد رکن سابق وزیر داخلہ سردار ثناءاللہ زہری ہیں۔

حاصل بزنجو نے بتایا ہے اس بارے میں وہ الیکشن کمیشن کو درخواست دیں گے تاکہ تمام اراکین ایک جماعت کے طور پر اسمبلی میں بیٹھیں۔

یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ ماضی میں بلوچستان کی سطح پر قوم پرست جماعتیں متحد بھی ہوئی ہیں اور پھر علیحدہ بھی ہوئی ہیں لیکن اس مرتبہ نیشنل پارٹی کے قائدین نے کہا ہے کہ وہ کبھی علیحدہ نہیں ہوں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد