نئی پیپلزپارٹی کا قیام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ کی قیادت میں مخلوط حکومت میں شامل پیپلز پارٹی کے دو دھڑوں، شیرپاؤ اور پیپلز پارٹی پیٹریاٹ ‘ نے بھی ادغام کا اعلان کیا ہے اور ایک نئی سیاسی جماعت’ پاکستان پیپلز پارٹی‘ کی بنیاد رکھی ہے۔ موجودہ حکومت کے چار وزیر اس نئی پارٹی کے اعلی عہدیدار ہیں۔ پیٹرولیم و قدرتی وسائل کے وفاقی وزیر نوریزشکور پارٹی کے نائب صدر جبکہ وزیر داخلہ سید فیصل صالح حیات اس کے جنرل سیکریٹری ہوں گے۔ آفتاب خان شیرپاؤ نے بینظیر بھٹو کی سربراہی میں قائم پاکستان پیپلز پارٹی سے علحیدہ ہوکر اانتخاب میں حصہ لیا۔ جبکہ راؤ سکندر اقبال ، سید فیصل صا لح حیات نے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کو اس وقت چھوڑ جب میں ملک میں سیاسی وفاداری تبدیل کرنے پر نااہلی کا قانون جنرل پرویز مشرف نے معطل کر رکھا تھا۔ نئی پارٹی نے اسٹیج پر ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی تصویر لگائی گئی ہوئی تھی البتہ اس کے رہنماء مخدوم فیصل صالح حیات نے بینظیر بھٹو پرتنقید کی ۔ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ وہ بھٹو کا مشن جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مفاد پرست اور موقعہ پرست دوسری پیپلز پارٹی میں ہیں اور دعویٰ کیا کہ جمہوریت پسند ان کی پیپلز پارٹی میں ہیں۔ فیصل صالح حیات کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے اٹھائیس برس تک جمہوری اداروں کے استحکام کے لئے قربانیاں دی ہیں اور انہیں فخر ہے کہ موجودہ حکومت بھی ان کی مرہون منت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بینظیر بھٹو نے ان کی قدر نہیں کی۔ نوریز شکور کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد حکومت سازی کے معاملے پر اختلافات کے بعد انہوں نے آصف علی زرداری سے کہہ دیا تھا کہ وہ پارٹی سے علحیدہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ کے رہنماؤں کا نام لیے بغیر کہا کہ مسلم لیگ کی حکومت صرف اور صرف پیپلز پارٹی( پیٹریاٹ) کی وجہ سے ہے اس لئے انہیں برداشت کرنا ہوگا۔ مسلم لیگی رہنما یہ اعتراض کرتے رہے ہیں کہ تمام اہم وزارتیں پی پی ( پیٹریاٹ) کے پاس ہیں اور ان سے آدھی اہم وزارتیں واپس لی جانی چاہیں۔ یاد رہے کہ صدر مشرف کی خواہش پر گزشتہ ماہ مسلم لیگ کے پانچ دھڑوں، سندھ ڈیموکریٹک الاسئنس اور نیشنل الائنس نے مدغم ہوکر پاکستان مسلم لیگ کے نام سے نئی جماعت بنائی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||