پولیٹیکل پارٹیز آرڈیننس میں ترمیم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے پیر کی شام حزب اختلاف کے احتجاج کے باوجود ’پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002‘ میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی سے منظور کرا لیا ہے۔ بل’وائس ووٹ‘ کے ذریعے اکثریتِ رائے سے منظور کیا گیا۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے جاری کردہ آرڈیننس میں ترمیم کرنے کے لیے منظور کرائے گئے بل کا مقصد سیاسی اور حکومتی عہدہ ایک ساتھ رکھنے پر عائد پابندی ختم کرنا ہے۔ پیر کے روز حکومت نے پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزارت قانون و انصاف کے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی اور قواعد معطل کر کے اس پر بحث کرائی۔ بحث کے دوران حزب اختلاف کے رہنماؤں اور اراکین نے حکومت کے عجلت میں بل منظور کرانے پر کڑی تنقید کی اور الزام لگایا کہ حکومت قواعد معطل کر کے ایوان کے کام کو بلڈوز کر رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اعتزاز احسن نے تجویز پیش کی کہ اٹھارہ اگست تک اس بل پر غور ملتوی کر دیا جائے تو حزب اختلاف اسے اتفاق رائے سے منظور کرنے کے لیے تیار ہے۔ بیشتر مقررین کا کہنا تھا کہ سیاسی اور حکومتی عہدے ایک ساتھ رکھنے پر پابندی کے باوجود بھی وزیراعظم چودھری شجاعت حسین سمیت متعدد وزراء اس کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں لیکن اس وقت ترمیم کا مقصد شوکت عزیز کو ضمنی انتخابات میں کامیاب کرانے کے لیے حکومتی وسائل کا استعمال کرنا ہے۔ یاد رہے کہ ضمنی انتخابات کی پولنگ اٹھارہ اگست کو ہونی ہے۔ فرید احمد پراچہ سمیت کئی اراکین نے یہ سوال اٹھایا کہ کل تک حکمران کہہ رہے تھے کہ قومی مفاد کی خاطر یہ قانون بنایا گیا ہے لیکن چند ماہ بعد پھر قومی مفاد اور مفاد عامہ کے تحت اسے تبدیل کیا جا رہا ہے، آخر وہ کونسا قومی اور عوامی مفاد ہے جو اس قدر تیزی سے تبدیل ہوگیا؟ حکومت کی جانب سے پیش کردہ ترمیمی بل اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لینے کے لیے بھیجنے اور رائے عامہ کی بحث کے لیے پیش کرنے کے متعلق حزب اختلاف نے دو تحریکیں بھی پیش کیں جو مسترد کر دی گئیں۔ سید نوید قمر سمیت حزب اختلاف کے بعض اراکین کا دعویٰ تھا کہ عوامی اور پارٹی عہدہ ایک ساتھ رکھنے پر پابندی ختم کرنے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف مسلم لیگ کے صدر بن سکتے ہیں۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پیش ہوگا اور سینیٹ کی منظوری کے بعد صدر کو دستخط کے لیے پیش کیا جائے گا۔ صدر کے دستخط کے بعد یہ ترمیمی بل نافذ العمل ہوگا اور اس کا اطلاق دسمبر 2003 سے ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||