اے آر ڈی کے امیدواروں کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں کے ضمنی انتخابات میں سرکاری امیدوار شوکت عزیز کا مقابلہ حزب اختلاف کے اتحاد ’ اتحاد برائے بحالی جمہوریت‘ کے امیدواروں کے طور پر پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے امیدوار کریں گے۔ مسلم لیگ نواز نے اپنے امیدوار پیپلز پارٹی کے حق میں دستبردار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کے سیکریٹری جنرل اور مسلم لیگ نواز کے رہنما ظفر اقبال جھگڑا نے ایک اخباری کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف اور نامزد امیدوار ڈاکٹر سکندر حیات بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ نامزد وزیراعظم شوکت عزیز کا مقابلہ کرنے والے اے آر ڈی کے دونوں امیدواروں، صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک کے حلقہ 59 سے ڈاکٹر سکندر حیات اور صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر کے حلقہ 229 سے ڈاکٹر مہیش ملانی، کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز سے ہے۔ قبل ازیں مسلم لیگ نواز کا مطالبہ تھا کہ تھرپارکر سے پیپلزپارٹی اور اٹک سے ان کی جماعت کا امیدوار سرکاری امیدوار کا مقابلہ کرے جبکہ پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ دونوں حلقوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے ہی اکتوبر دو ہزار دو کے عام انتحابات میں دوسرے نمبر پر زیادہ ووٹ لیے تھے اس لیے اب بھی ان کا امیدوار دونوں نشستوں پر مقابلہ کرے۔ اے آر ڈی کی دونوں بڑی جماعتوں میں اختلاف رائے کی وجہ سے لاہور میں اتحاد کے دو روز تک جاری رہنے والے اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا تھا۔ لیکن اسلام آباد میں دس جولائی کو طویل مشاورت کے بعد دونوں جماعتوں کے رہنما متفقہ امیدوار لانے پر رضامند ہوگئے تھے۔ جب ظفراقبال سے پوچھا گیا کہ مسلم لیگ دونوں حلقوں سے دستبردار ہوگئی ہے، کیا اس کے پاس پیپلز پارٹی سے بہتر امیدوار نہیں تھے؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ بہتر امیدوار تھے لیکن انہوں نے جمہوریت اور اے آر ڈی کے مفاد میں یہ فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ نامزد وزیراعظم شوکت عزیز کو رکن قومی اسمبلی منتخب کرانے کے لیے حکومت نے اٹک اور تھرپارکر کی نشستوں کو محفوظ سمجھتے ہوئے خالی کرایا تھا کیونکہ قانون کے تحت وزیراعظم صرف پارلیمینٹ کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی ہی کا رکن بن سکتا ہے۔ اٹک سے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی بھانجی اور تھرپارکر سے وزیراعلیٰ سندھ کے بھانجے نے استعفیٰ دیا تھا جس پر اب ضمنی انتخاب میں شوکت عزیز حصہ لے رہے ہیں۔ دونوں حلقوں سے کل چھبیس امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے تھے جس میں اٹک کی نشست کے لیے سولہ اور تھرپارکر کے حلقہ کے لیے دس امیدوار شامل تھے۔ داخل کردہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران تھرپارکر کی نشست کے لیے پیپلز پارٹی کے ایک امیدوار کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے تھے۔ جبکہ دونوں حلقوں سے شوکت عزیز سمیت دیگر تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیئے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||