کوئٹہ میں وکلاء کا احتجاجی مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں وکلاء نے سینئر سول جج کی عدالت میں خود کش دھماکے کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی ہے اور کہا ہے کہ حکومت انہیں تفتیش سے آگاہ کرے تاکہ انھیں معلوم ہو کہ تحقیقات میں کیا پیش رفت ہے۔ یہ ریلی ضلع کچہری سے نکالی گئی جو عدالت روڈ کندھاری بازار اور میزان چوک سے ہوتی ہوئی واپس ضلع کچہری پہنچی۔ ریلی کے دوران وکیل خاموش تھے۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک سکندر ایڈووکیٹ نے ریلی کے بعد بی بی سی کو بتایا کہ سینئر سول جج کی عدالت میں خود کش دھماکہ ایک بڑا سانحہ ہے جسے وکیل کسی صورت نہیں بھلا سکتے۔ انھوں نے کہا ہے کہ تحقیقات سے وکیلوں کو آگاہ کیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ پولیس کیا کر رہی ہے۔ پاکستان بار کونسل کے نائب صدر علی احمد کرد نے کہا تھا کہ کوئٹہ میں وکلاء غیر معینہ مدت تک عدالتوں میں کام نہیں کریں گے۔ یاد رہے سنیچر کے روز ضلع کچہری میں سینئر سول جج کی عدالت میں خود کش حملے میں ایک جج اور سات وکلاء سمیت سولہ افراد ہلاک اور چونتیس زخمی ہو گئے تھے۔ زحمیوں میں سے دو وکیل تاحال بے ہوش ہیں ۔ اس کے علاوہ منگل کو ڈھاڈر کے قریب نا معلوم افراد نے وفاقی وزیر برائے سرحدات اور قبائلی علاقہ جات یار محمد رند کے قافلے پر حملہ کیا ہے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اس حملے کی وجہ قبائلی تنازع ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان: بھاری اسلحہ بر آمد24.07.2003 | صفحۂ اول کوئٹہ: دوحملہ آوروں کی شناخت 17.07.2003 | صفحۂ اول کوئٹہ میں دھماکے13 August, 2003 | صفحۂ اول طالبان کے دھمکی آمیز کتابچے11 August, 2003 | صفحۂ اول مارملنگ پہ زمین تنگ20 June, 2005 | صفحۂ اول غیر قانونی تارکین وطن واپس20 November, 2003 | صفحۂ اول کوئٹہ ہلاکتیں، تحقیقات کا حکم02 March, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||