مارملنگ پہ زمین تنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر چمن کے مارملنگ علاقے میں اٹھائیس ایکڑ زمین کی ملکیت پر پاک فوج اور مقامی آبادی کے مابین تنازعہ ایک مرتبہ پھر سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس مسئلے کوسلجھانے کے لئے قائم کی گئی آرمی افسران، مقامی آبادی کے نمائندوں، اور صوبائی وزراء پر مشتمل کمیٹی ایک بھی اجلاس نہیں بلا پائی ہے۔ چمن میں یوں تو فوج کے زیر انتظام کافی زیادہ زمین ہے لیکن اس میں سے ایک سو تینتیس ایکڑ رقبہ متنازعہ ہے۔ اس سال جون میں آرمی افسران نے مارملنگ کے رہائشیوں کو نوٹس جاری کیے تھے کہ یہ زمین فوج کی ہے اور اسے فوری طور پر خالی کر دیا جائے۔ متنازعہ زمین پر سینکڑوں گھر اور دکانیں ہیں اور مقامی رہنماؤں کے مطابق لوگ یہاں گزشتہ چالیس سال سے رہائش پذیر ہیں۔ علاقے کا نام ایک ملنگ پر رکھا گیا ہے جو کافی عرصہ پہلے یہاں رہتا تھا۔ کہا جاتا ہے وہ دن بھر جھونپڑی میں گذارتا اور رات باہر گھومتے ہوئے، ’بالکل سانپ کی طرح”۔ بلوچی زبان میں سانپ کو ’مار” کہا جاتا ہے۔ اس علاقے میں اب پیٹرول پمپ، مساجد اور سکول بھی قائم ہو چکے ہیں، اور شہری حدود کے اندر ہونے کی وجہ سے اس جگہ کی اہمیت اور قیمت میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔
مارملنگ کے ایک رہائشی عبداللہ جان نے بتایا کہ پاکستان قائم ہونے سے پہلے یہ زمین مقامی قبیلے اشیزئی کی تھی جس پر قبیلے کے لوگ کاشت کاری کرتے تھے۔ تقسیم سے پہلے انگریزوں نے اس زمین کو لِیز پر لے لیا تھا۔ چمن میں متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولوی حنیف کے مطابق انیس سو تریسٹھ اور چونسٹھ میں جب چمن کا بندوبست ہوا تو یہ زمین آرمی نے اپنے نام کر لی تھی۔ جنرل ضیاءالحق کے دور تک آرمی نے آس پاس کی کوئی دو سو ایکڑ زمین اپنے نام پر کر رکھی تھی جو بڑھتے بڑھتے ایک غیر مصدقہ اندازے کے مطابق اب پانچ سو ایکڑ تک ہو سکتی ہے۔ آرمی، صوبائی حکومت اور مقامی آبادی کے مابین انیس سو چھیاسی اور پھر انیس سو چھیانوے میں دو معاہدے بھی ہوئے لیکن ان پر عملدرامد نہیں ہوا۔ پہلے معاہدے کے تحت صوبائی حکومت کے توسط سے متنازع زمین کے رہائشی فوج کو ایک لاکھ روپے فی ایکڑ کے حساب سے ادائیگی کرنے کے ذمہ دار تھے، جبکہ دوسرے معاہدے کی رُو سے حکومت نے ایک سو تینتیس ایکڑ متنازع اراضی کے بدلے آرمی کو چمن کے روغانی علاقے میں ایک سو ترانوے ایکڑ زمین فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ دونوں معاہدوں پر عمل نہ ہونے کا ذمہ تینوں فریق، یعنی صوبائی حکومت، فوج اور رہائشی، ایک دوسرے پر ڈالتے ہیں۔
مولوی حنیف کہتے ہیں اگر ملک کو ضرورت ہے تو پاکستانی ہونے کے ناطے وہ اپنی جان دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے لیکن نفع کی خاطر آرمی غریب لوگوں کو بے گھر کرے، ایسا وہ نہیں ہونے دیں گے۔ ’ہم بھی پاکستانی ہیں، ہم نے محنت کی ہے اور اس علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب آرمی والے آگئے ہیں تاکہ وہ یہاں مارکیٹیں بنائیں اور زیادہ منافع کمائیں۔ یہ غلط ہے”۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں ایسی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ مقامی لوگوں کو دعوت دی گئی ہے کہ جن لوگوں کو چمن میں تنگ کیا جا رہا ہے انہیں افغانستان کے علاقے سپین بولدک میں جگہ فراہم کی جائے گی۔ مولوی حنیف نے کہا کہ چمن میں لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ دعوت ملک کے خلاف ہے اور انہوں نے یہ دعوت مسترد کردی ہے اور زور زبردستی کے آگے لوگ نہیں جھکیں گے۔ نوٹس جاری کیے جانے اور اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم ہونے کے بعد خاموشی پر علاقے کے لوگوں کو تشویش ہے۔ اس کمیٹی میں صوبائی وزراء مولانا عبدالواسع اور حافظ حمداللہ کے علاوہ دو فوجی افسران اور رہائشیوں کا ایک نمائیندہ شامل ہے۔ مولانا عبدالواسع اور حافظ حمداللہ کا کہنا ہے کہ اب مارملنگ کی زمین کی قیمت دس کروڑ روپے مقرر کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن غریب لوگ اتنی رقم دینے سے قاصر ہیں۔ آرمی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں کئی امیر لوگ بھی ہیں جو رقم نہیں دینا چاہتے۔ اس کے جواب میں مولوی حنیف کہتے ہیں کہ اٹھائیس ایکڑ رقبے میں گزشتہ چالیس سالوں سے رہائش پذیر لوگوں میں ضرور پانچ فیصد امیر بھی ہوں گے لیکن باقی پچانوے فیصد کا کیا قصور ہے؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||