مشرف کی وکلاء کو وارننگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ کچھ وکلاء نے ایک آئینی معاملے اور عدلیہ کے ایشو کو سیاسی رنگ دے دیا ہے اور عوام ان کی باتوں میں نہ آئیں۔ سنیچر کی صبح سندھ کے صحرائی علاقے نئوں کوٹ میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مشرف نے جسٹس افتخار چودھری کے مقدمے کا نام لیے بغیر کہا کہ ’اس کیس میں جو لوگ سیاست چمکا رہے ہیں وہ سیاست چھوڑیں اور امن و امان سے رہیں اور سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک آئینی فیصلہ لینے دیں اور وہی فیصلہ آگے چلے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ حکومت اور فوج کے خلاف غلط تاثر پھیلا رہے ہیں۔ جنرل مشرف نے کہا ’سندھ میں یہ خیال عام ہے کہ یہ پنجاب کی فوج ہے مگر اس میں تو سندھ کے پچھہتر ہزار سپاہی شامل ہیں۔ یہ پاکستان کی فوج ہے اور اس میں بلوچ، پٹھان، سندھی، پنجابی سب شامل ہیں‘۔ انہوں نے سکھر بیراج سمیت سندھ میں فوج کی مدد سے مکمل ہونے والے کئی منصوبوں کا ذکر کیا اور کہا کہ فوج سندھ میں ترقی کے لیے کوشاں ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے تھر کے لوگوں سے ایک مرتبہ پھر وعدہ کیا کہ تھر پارکر سے نکلنے والے کوئلے کے ذخائر کو استعمال کیا جائے گا اور یہاں یورپ اور چین سے کمپنیاں لائی جائیں گی، تاکہ اس کوئلے سے بجلی بنائی جائے ، علاقے اور ملک کی ترقی ہو۔ انہوں نے لوگوں سے آئندہ الیکشن میں موجودہ حکومت کو ووٹ دینے کی بھی اپیل کی۔ جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ ’وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خزانے بھرے ہوئے ہیں، وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور اگر اس میں کوئی رکاوٹ ہے تو وہ دہشت گردی اور انتہاپسندی ہے مگر سندھ میں ایسا کچھ نہیں ہے اور یہاں سب یکجہتی سے رہتے ہیں‘۔ | اسی بارے میں صدر کا جلسہ ، مقامی لوگ بےگھر04 May, 2007 | پاکستان ’درخواست صدر کی طرف سے نہیں‘03 May, 2007 | پاکستان ’فل کورٹ بینچ کا مطالبہ بدنیتی ہے‘03 May, 2007 | پاکستان جلسہ صدر کا، مشکل عوام کی03 May, 2007 | پاکستان فُل بینچ تشکیل دیں: مشرف وکلاء02 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||