BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 May, 2007, 16:37 GMT 21:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جلسہ صدر کا، مشکل عوام کی

ٹرانسپورٹ کی پکڑ دھکڑ
’الیکشن ہو یا ملکی سربراہ کی آمد ٹرانسپورٹر عتاب کا شکار رہتے ہیں‘
سندھ کے صحرائی علاقے نئوں کوٹ میں صدر جنرل پرویز مشرف کے مجوزہ جلسے سے قبل اندرون سندھ میں پولیس نے ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں پکڑ کر پولیس لائنز اور سرکاری سکولوں کے میدانوں میں کھڑی کر دی ہیں۔

اس پکڑ دھکڑ سے اندرونِ سندھ کے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید کمی واقع ہوگئی ہے۔

صدر پرویز مشرف سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کی دعوت پر پانچ مئی کو اس جلسے سے خطاب کرنے آ رہے ہیں اور اس کے لیے نئوں کوٹ کے تاریخی قلعے کی قریبی علاقے کو جلسہ گاہ بنایا گیا ہے۔

نئوں کوٹ کے ضلعی صدر مقام میرپورخاص، سانگھڑ، عمرکوٹ، مٹھی اور حیدرآباد سے لےکر سکھر تک سندھ بھر میں پولیس کی جانب سےگاڑیوں کی پکڑ دھکڑ کے بعد کچھ ٹرانسپورٹروں نے خود بھی گاڑیاں کھڑی کر دیں جبکہ حیدرآباد، ٹنڈوحیدر، کنری، جیکب آباد سمیت کئی شہروں میں ٹرانسپورٹروں نے پولیس کی اس کارروائی کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے۔

ٹرانسپورٹ کے اس بحران کی وجہ سےگزشتہ دو روز سے اندرون سندھ کے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ میر پور خاص کے ٹرانسپورٹر گل حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ الیکشن ہو یا ملکی سربراہ کی آمد ٹرانسپورٹر ہمیشہ عتاب کا شکار رہتے ہیں۔

 اگر پولیس کو کوئی ہزار دو ہزار دے کر اپنی گاڑی چھڑا بھی لیتا ہے تو دوسرے تھانے کی پولیس پکڑ لیتی ہے۔گولاڑچی سے حیدرآباد تک روزانہ پینتیس کوچ اور بسیں چلتی ہیں مگر اب ایک بھی نہیں چل رہی۔ اکثر پولیس پکڑ کر لے گئی ہے اور جو ایک دو بچی ہیں وہ ٹرانسپورٹروں نے کھڑی کردی ہیں
ٹرانسپورٹر دل مراد مری

انہوں نے بتایا کہ’تیس اپریل سے میرپورخاص سے پولیس حکام نےگاڑیاں پکڑنا شروع کیں جو سلسلہ تاحال جاری ہے اور اگر کوئی مزاحمت کرتا ہے تو ڈرائیور کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور مقدمہ دائر کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں‘۔

گل حسن نے بتایا کہ’ان گاڑیوں کا کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا جس سے ٹرانسپورٹروں کو تو نقصان ہوتا ہی ہے، ڈرائیور اور کلینر بھی روزگار سے محروم ہو جاتے ہیں‘۔

بدین کے ٹرانسپورٹر دل مراد مری نے بتایا کہ لوگ ٹرانسپورٹروں پر ناراض ہو رہے ہیں مگر ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ حکام بس اسٹینڈ پر کھڑی گاڑیاں بھی لے جاتے ہیں۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کا کوئی بحران نہیں ہے یہ بحران صرف میڈیا نے بنایا ہے اور’ظاہر ہے جلسے میں لوگ ٹرانسپورٹ کے ذریعے ہی آئیں گے‘۔ ارباب غلام رحیم نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تاریخی جلسہ ہو گا جس میں چار لاکھ سے زائد لوگ شریک ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد