’ہم کریں تو لاٹھیاں وہ کریں تو چھٹیاں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران پاکستان مسلم لیگ (ق) کے زیر انتظام منگل کو راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں منعقد کیئے جانے والے صدر جنرل پرویز مشرف کے جلسۂ عام کے موقع پر شہر میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیئے گئے ہیں۔ صدر کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لیئے شہر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔ شہر کی مرکزی شاہراہ مری روڈ کے ایک بڑے حصے کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا اور صدر ان تمام سکیورٹی انتظامات کے باوجود لیاقت باغ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع آرمی ہاؤس سے بذریعہ ہیلی کاپٹر جلسہ گاہ میں پہنچے۔
سکیورٹی انتظامات کا یہ عالم تھا کہ جلسہ گاہ سے متصل راولپنڈی پریس کلب کو بھی انتظامیہ نے سیل کردیا اور صحافیوں کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی۔ جنرل پرویز مشرف کے اس جلسے میں عوام کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیئے صوبائی مشینری اور ضلعی انتظامیہ گزشتہ چند دنوں سے بھرپور تیاریوں میں مصروف ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے صدر کے جلسے میں حکومتی مشینری کے استعمال پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’حزب اختلاف کے جلسوں میں ہمیں لاٹھیاں ماری جاتی ہیں جبکہ صدر مشرف کے جسلے کے لیے لوگوں کو چھٹیاں دی جاتی ہیں۔‘ انہوں نے حکمران جماعت کے سیاسی جلسوں پر قومی خزانے سے لاکھوں روپے لٹانے کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت حزب مخالف کے احتجاج پر پابندیاں لگا رہی ہے اور دوسری طرف حکومتی جماعت کے جلسہ کے لیے عام تعطیل کرکے سرکاری ملازمین کو اس میں شرکت کا پابند بناتی ہے۔ حکومت نے لوگوں کو جلسہ گاہ تک پہنچانے کے لیئے تفصیلی انتظامات کیئے ہیں اور پولیس اور انتظامیہ نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف روٹس پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کی ایک ہزار کے قریب بسوں، ویگنوں اور سوزوکیوں کو پہلے ہی پکڑ رکھا ہے۔ راولپنڈی جہاں بری فوج کا ہیڈ کوارٹر بھی واقع ہے وہاں سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیئے گئے ہیں۔ لیاقت باغ میں صدر مشرف کے جلسے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اور فوجی اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ شہر میں جگہ جگہ صدر مملکت جنرل پرویز مشرف، وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی بڑی بڑی تصاویر والے بورڈ، بینر اور مسلم لیگ (ق) کے پرچم لگے ہوئے ہیں۔ دو روز سے ملک کی بیشتر اخبارات میں مرکزی، پنجاب کی صوبائی اور راولپنڈی کی ضلعی حکومت کی جانب سے بیشتر اخبارات میں لاکھوں روپے مالیت کے اشتہارات بھی شایع کرائے گئے ہیں۔ چھبیس تاریخ کی اخبارات میں پورے رنگین صفحہ جبکہ ستائیس کی اشاعت میں نصف صفحے کے اشتہارات شایع کرائے گئے ہیں۔ پرویز اشرف نے الزام لگایا کہ فی پٹواری کو ساٹھ افراد جلسہ گاہ میں پہنچانے کی ڈیوٹی دی گئی ہے اور اس میں پندرہ کے قریب کالے کوٹ والے بھی ہونے چاہییں۔ ان کے مطابق ان کے ایک جاننے والے پٹواری نے انہیں بتایا کہ ان افراد کو لانے اور لے جانے اور کھلانے اور پلانے کے اخراجات بھی پٹواری کو دینے ہیں۔ حکمران مسلم لیگ کے ایک ترجمان نے حزب مخالف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں ان کی حکومتوں کے دوران وہ خود ایسا کرتے رہے ہیں اس لیے ان پر الزامات لگا رہے ہیں۔ تاہم شہر میں عام تعطیل کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ایسا سیکورٹی کے انتظامات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں صدارتی جلسہ، گاڑیاں عارضی ضبطی26 March, 2007 | پاکستان مشرف: سیاسی سرگرمیوں پر بحث07 January, 2007 | پاکستان اسلام آباد: مزدور تنظیموں کا جلوس 06 March, 2007 | پاکستان ’خواتین دہشت گردی روکیں‘08 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||