BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 May, 2007, 03:05 GMT 08:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’درخواست صدر کی طرف سے نہیں‘
جنرل پرویز مشرف
جونیئر ججوں اور ایڈہاک جج پر مشتمل بینچ پر کئی اعتراض اٹھائے جا سکتے ہیں
جسٹس افتخار محمد چودھری کی پٹیشن کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے تمام ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دینے کے لیے درخواست ’صدر مشرف کے وکیل نے نہیں دی ہے۔‘

یہ بات وزیر قانون وصی ظفر نے بدھ کی رات کو بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ درخواست وکیل ابراہیم ستی نے دی ہے جبکہ صدر جنرل مشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ ہیں۔ تاہم وہ یہ وضاحت نہ کر سکے کہ ابراہیم ستی کس کی پیروی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں کئی فریق ہیں جن میں صدر، وزیراعظم، حکومت پاکستان، سپریم جوڈیشل کونسل اور دیگر شامل ہیں اور ابراہیم ستی ’کسی اور کے وکیل ہیں لیکن جنرل مشرف کے نہیں۔‘

تاہم اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ابراہیم ستی نے یہ درخواست شریف الدین پیرزادہ کی ہدایت پر ہی دائر کی تھی۔


قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا ہے جو سات مئی سے اپنی کارروائی شروع کرے گا۔ پانچ رکنی بینچ جسٹس جاوید بٹر، جسٹس ناصر الملک، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس چودھری اعجاز اور حامد علی مزرا پر مشتمل ہے۔

دائر کردہ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ توقع تھی کہ قائم مقام چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے لیے تمام ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دیں گے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ چار جونیئر ججوں اور ایک ایڈہاک جج پر مشتمل بینچ پر کئی اعتراض اٹھائے جا سکتے ہیں۔

 درخواست میں کہا گیا ہے کہ چار جونیئر ججوں اور ایک ایڈہاک جج پر مشتمل بینچ پر کئی اعتراض اٹھائے جا سکتے ہیں۔صدر مشرف کے وکلاء نے کہا کہ اگر قائم مقام چیف جسٹس نے سینئر ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دیا ہوتا تو وہ فل کورٹ بینچ کا مطالبہ نہ کرتے

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پانچ سینئر ججوں، جن میں جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس فلک شیر اور جسٹس شاکر اللہ جان کو نظر انداز کرنے کی وجوہات ان کی سمجھ سے بالا تر ہیں۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر قائم مقام چیف جسٹس نے سینئر ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دیا ہوتا تو وہ فل کورٹ بینچ کا مطالبہ نہ کرتے۔

بدھ کوسپریم جوڈیشل کونسل نے ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی اس درخواست کو مسترد کر دیا کہ صدراتی ریفرنس کی سماعت اس وقت تک روک دی جائے جب تک سپریم کورٹ ان کی پیٹشن کا فیصلہ نہیں کر دیتی۔

ملک گیر مظاہرے
وکلاء اور سیاسی جماعتوں کا احتجاج
وکلاء احتجاجوکلاء کا احتجاج
چیف جسٹس کی پیشی: تصویری جھلکیاں
احتجاجسیاسی میلے
وکلا کے جذبے میں کوئی کمی دکھائی نہیں آئی
غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھریججوں سے اپیل
چیف جسٹس کا ساتھ دیں: سپریم کورٹ بار
’انتقامی‘ کارروائی
حکومت انتقامی کارروائی کررہی ہے: وکلاء
چیف جسٹس افتخار چودھریجسٹس چودھری
آئینی درخواستوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد