گرفتاریاں، بائیکاٹ، مظاہرے،گرمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کو سپریم جوڈیشل کونسل میں، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر پاکستان کے مختلف شہروں میں وکلاء اور حزب مخالف کی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ بیشتر وکلاء نے ملک کی اکثر عدالتوں کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور مقدمات کی پیروی نہیں کی جس سے عدالتی کارروائی سخت متاثر ہوئی۔ اسلام آباد میں پولیس اور سیاسی کارکنوں کے درمیاں تلخی اورگرماگرمی بھی ہوئی جس پر پولیس نے لاٹھی چارج جبکہ سیاسی کارکنوں نے پتھراؤ کیا۔ پولیس اور سیاسی کارکنوں کے جھگڑے کے دوران متحدہ مجلس عمل کے رکن اسمبلی مولانا اسد اللہ زخمی ہوگئے جبکہ پولیس نے ایک درجن کے قریب کارکنوں کوگرفتار کر لیا۔گزشتہ چند پیشیوں کے دوران پولیس کے رویہ میں نرمی نظر آ رہی تھی لیکن بدھ کو پولیس نے سخت رویہ اپنایا۔ جہاں وکلاء اور سیاسی کارکنان کے لیے لایا جانے والا کھانا اور پانی روک لیا گیا وہیں اسلام آباد کے بیشتر داخلی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے احتجاج میں آنے والوں کو روکا بھی گیا۔ بدھ کو جسٹس افتخار چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی ساتویں پیشی تھی اور اس موقع پر سخت ترین گرمی کے باوجود بھی وکلاء اور سیاسی کارکناں سماعت مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس کے گھر روانگی تک سڑک پر موجود رہے۔ مسلم لیگ نواز کے ترجمان احسن اقبال اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق اسلام آباد میں اس مرتبہ بھی ماضی کی طرح گزشتہ رات سے ہی پولیس نے بڑے پیمانے پر حزب مخالف کی جماعتوں کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی تھی لیکن اس کے باوجود کارکنان کی ایک بڑی تعداد پابندیاں توڑ کر سپریم کورٹ کی عمارت کے گرد و نواح میں جمع ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ بدھ کو اسلام آباد میں شدید دھوپ اور گرمی رہی تاہم اس کے باوجود سینکڑوں کارکن پسینے میں شرابور ’گو مشرف گو‘ اور ’عدلیہ کو آزاد کرو‘ جیسے زوردار نعرے لگاتے رہے۔ پولیس اور کارکنوں میں اس وقت تلخی پیدا ہوئی جب متحدہ مجلس عمل کے کارکن سپریم کورٹ کے سامنے پانی سے بھرا ٹینکر لانا چاہتے تھے تاکہ کارکنوں کے لیے پینے کا پانی دستیاب رہے۔ اس سے پہلے سماعتوں کے دوران بھی گرمی کی وجہ سے سیاسی پارٹیاں اپنے کارکنوں کے لیے پانی اور مشروبات مہیا کرتی رہی ہیں۔ پاکستان بار کونسل کے رکن راجہ شفقت عباسی نے کہا کہ حکومت وکلاء کا کھانا اور پانی بند کرکے انہیں کمزور نہیں کرسکتی۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ ظفر اقبال نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’سپریم کورٹ کے باہر ’ممکنہ گڑ بڑ‘ کو روکنے کی غرض سے منگل کی رات دارالحکومت سے مختلف جماعتوں کے ایک سو کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔پولیس کے ذرائع کے مطابق پنجاب کے کئی دوسرے شہروں میں بھی مجموعی طور پر دو سو کے قریب کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاج جلوس نکالے۔ کراچی میں سٹی کورٹ سے وکلاء نے احتجاجی جلوس نکالا، جس کے شرکاء صدر پرویز مشرف، ارباب غلام رحیم مخالف نعروں سمیت آئین کا تارا مسیح ، شریف الدین شریف الدین جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ کراچی پریس کلب کے باہر وکلاء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مشرف حکومت کا جاری رہنا کسی صورت میں آزاد عدلیہ کے مفاد میں نہیں ہے۔ دوسری جانب کراچی بار ایسو سی ایشن کے دو ممبران راناعارف شمیم اور شجاع عباس کی بار میں آمد پر پابندی عائد کردی ہے اور سندھ بار کونسل کو ان کی رجسٹریشن رد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی بار ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری نعیم قریشی نے بتایا کہ ان وکلاء نے ایک سیمینار میں ایک قرار داد پیش کی تھی کہ وکلاء سپریم کورٹ سے باہر احتجاج نہ کریں اس سے وکلاء کا تقدس پامال ہوتا ہے۔ بدھ کو کراچی کے علاوہ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ ، میرپورخاص، نوابشاہ، دادو سمیت کئی دیگر اضلاع میں بھی وکلاء نے احتجاج کیا۔ لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار عباد الحق کے مطابق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر پنجاب میں بھی وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی جلوس نکالے۔ لاہور میں وکلاء اور سیاسی جماعتوں نے پنجاب اسمبلی تک پرامن جلوس نکالا۔ وکلاء کا جلوس ایوانِ عدل سے روانہ ہوا اور ہائی کورٹ کے سامنے ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کا جلوس بھی اس میں شامل ہوگیا۔ جلوس میں سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں کے کارکنوں نے بھی اپنی جماعتوں کے جھنڈوں کے ساتھ شرکت کی۔
کوئٹہ میں بی بی سی اردو کے نمائندے عزیز اللہ کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل میں سماعت کے موقع پر بلوچستان میں بھی وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور کوئٹہ میں وکیلوں کے علاوہ سیاسی جماعتوں نے بھی احتجاجی مظاہرے کیے۔ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے بتایا کہ آج عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا اور کوئٹہ میں علامتی بھوک ہڑتال کا سلسلہ جاری رہا۔ کوئٹہ میں ضلع کچہری سے وکلاء نے ایک ریلی نکالی جو شارع عدالت سے ہوتی ہوئی واپس زرغون روڈ پر ٹی اینڈ ٹی چوک پہنچی جہاں وکلاء نے دھرنا دیا اور انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی۔ وکلاء نے اس موقع پر سخت نعرہ بازی کی جن میں ’گو مشرف گو‘ ’مشرف تیرے ضابطے ہم نہیں مانتے‘ اور ’امریکہ سے تیرے رابطے ہم نہیں مانتے‘ اور ’ہمارا چیف زندہ باد‘ جیسے نعرے نمایاں تھے۔ اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کے کارکنوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے علیحدہ علیحدہ مظاہرے کیے۔ مظاہروں میں دونوں جماعتوں کے قریباً دو درجن لوگ شامل تھے۔ پشاور سے بی بی سی کے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق غیر فعال چیف جسٹس کی پیشی کے موقع پر سرحد بار کونسل اور پشاور بار ایسوسی ایشن کے اراکین نے پشاور ہائی کورٹ کے سامنے دھرنا دیا اور وکلاء نے صوبے بھر میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ دھرنے کی قیادت پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالطیف آفریدی ایڈوکیٹ نے کی۔ دھرنے سے قبل سرحد بار کونسل اور پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کا اجلاس بھی ہوا جس میں پیشی کے موقع پر اسلام آباد جانے والے مظاہرین کو اٹک پل پر روکے جانے کی مذمت کی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت لوگوں کو ان کے جمہوری حق سے روک رہی ہے۔ |
اسی بارے میں جسٹس بحران پر اپوزیشن واک آؤٹ23 April, 2007 | پاکستان ’غداری کا حق کسی کو نہیں‘21 April, 2007 | پاکستان یوم احتجاج سے پہلے درجنوں گرفتار20 March, 2007 | پاکستان سماعت ملتوی، صدر کو نوٹس19 April, 2007 | پاکستان سندھ کے چار سو وکلاء پر مقدمہ 19 April, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا پرجوش استقبال14 April, 2007 | پاکستان جلوس، تلخ کلامی اور ہاتھا پائی 13 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||