BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 April, 2007, 12:46 GMT 17:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چیف جسٹس کے ساتھ کب کیا ہوا؟

چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کو بتایا کہ ان کو اور ان کے اہل خانہ کو گھر میں مقید کر دیا گیا ہے
نو مارچ:

صدر مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس دائر کیا۔ریفرنس میں الزام لگایا گیا کہ چیف جسٹس نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ ریفرنس دائر ہونے کے ساتھ ہی چیف جسٹس کو گھر میں بند کر دیا گیا۔ چیف جسٹس کے گھر کی طرف جانے والے تمام راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی۔

نو مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کا پہلا اجلاس سپریم کورٹ میں ہوا جس کی سربراہی اس وقت کے قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے کی۔ کونسل نے بند کمرے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کو کام کرنے سے روک دیا اور ریفرنس کی اگلی سماعت تیرہ مارچ کو کرنے کا فیصلہ کیا۔

دس مارچ:

حکومت نے چیف جسٹس کے زیر استعمال گاڑیاں لفٹر کے ذریعے اٹھا لیں۔ ملک بھر میں وکلاء نے چیف جسٹس کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے خلاف تین روز مکمل ہڑتال کی اور پورے ملک میں سراپا احتجاج بنے رہے۔

تیرہ مارچ:

’غیر فعال‘ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے سامنے پیشی پر پولیس کی طرف سےمہیا کی جانے والی گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور اصرار کیا کہ وہ پیدل سپریم کورٹ جائیں گے۔انتظامیہ اور پولیس کے اہلکاروں نے چیف جسٹس کو زبردستی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی جس دوران چیف جسٹس سے بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا۔

جسٹس افتخار سپریم جوڈیشل کے سامنےپیش ہوئے اور کونسل کے پانچ میں سے تین اراکان پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال سپریم جوڈیشل کی سربراہی کے اہل نہیں ہیں جبکہ جسٹس عبدل الحمید ڈوگر (جج سپریم کورٹ) اور جسٹس افتخار حسین چودھری (چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ) کے خلاف شکایات سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے رجسٹر ہوچکی ہیں لہذا انہیں ان سے انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے۔ مقدمے کی سماعت سولہ مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

سولہ مارچ:

چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کو بتایا کہ ان کو اور ان کے اہل خانہ کو گھر میں مقید کر دیا گیا ہے ۔ کونسل نےحکم جاری کیا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے اہل خانہ کی نقل و حرکت پر تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور وہ جس شخص سے ملنا چاہیں مل سکتے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے ذرائع ابلاغ کو بھی خبردار کیا کہ وہ جسٹس افتخار کے معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔

جسٹس جاوید اقبال نے قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھایا

سترہ مارچ:

صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد کو ’جبری چھٹی‘ پر بھیج دیا۔ چیف جسٹس کو جبری چھٹی پر بھیجنے کا فیصلہ انیس سو اکہتر میں بنانے جانے والے ایک قانون کے تحت کیا۔

اکیس مارچ:

حکومت نے ملک بھر میں وکلاء اور دوسرے طبقوں کی طرف سے شدید احتجاج اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج کرنے کے اعلان کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ایک ’انتظامی‘ حکم کے ذریعے دس روز تک ملتوی کر دیا گیا۔

چوبیس مارچ:

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس رانا بھگوان داس چھٹیاں گزارنے کے بعد واپس آگئے اور قائم مقام چیف جسٹس کا حلف لے لیا۔

اٹھائیس مارچ:

جسٹس افتخار نے اپنی نقل و حرکت پر پابندیوں کو اٹھائے جانے کے بعد سب سے پہلے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کی ہائی کورٹ سے خطاب کیا۔ جسٹس افتخار نے کہا کہ ظلم پر مبنی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔

تیس مارچ:

جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف الزامات کی سماعت کے لیے بنائی جانے والی سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا اور تین مختلف وکلاء نے اپنے طور پر دائر کی جانے والی پیٹشنوں میں موقف اختیار کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کا حق حاصل نہیں ہے۔

جسٹس رانا بھگوان داس کے قائم مقائم چیف جسٹس بننے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کی از سر نو تشکیل ہوئی

تین اپریل:

جسٹس رانا بھگوان داس کے قائم مقام چیف جسٹس بننے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کی از سر نو تشکیل کی گئی جس کے بعد کونسل کا اجلاس ہوا جس کی سربراہی جسٹس رانا بھگوان داس نے کی۔ اس سماعت میں جسٹس افتخار کے خلاف کارروائی بند کمرے یا کھلی عدالت میں کروانے سے متعلق بحث ہوئی اور کونسل نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

تیرہ اپریل:

سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا کہ کونسل کی کارروائی کو بند کمرے میں یا کھلی عدالت میں کرنے سمیت دوسرے اعتراضات پر وکلاء کے دلائل سننے کے بعد تمام ابتدائی نکات کا فیصلہ ایک ہی دفعہ کیا جائے گا۔

اٹھارہ اپریل:

سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کے بعد جسٹس افتخار کے وکلاء نے بتایا کہ انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو سماعت کے دوران بتایا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے کونسل کی تشکیل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اس لیے اگر مناسب سمجھیں تو کارروائی کو آگے نہ چلائیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے سماعت چوبیس اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال کےالزامات کی سماعت ابھی شروع نہیں ہوئی ہے۔

’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
مقدمہ اور مقدمے
چیف جسٹس افتخار کا مقدمہ اور مقدمے
 جسٹس افتخار کے ساتھ بدسلوکی’یہ ہاتھ کس کا ہے‘
جسٹس افتخار کے بال کس نے کھینچے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد