چیف جسٹس توہین، فرد جرم عائد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ آف پاکستان نے بدھ کو معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ مبینہ بد سلوکی کے مقدمے میں اسلام آباد کے چیف کمشنر اور آئی جی پولیس سمیت سات افسران پر ترمیمی فرد جرم عائد کر دی ہے۔ تاہم ملزمان نے عدالت عظمٰی کے سامنے تحریری غیر مشروط معافی نامہ جمع کرا دیا۔ ترمیمی فرد جرم اس وقت عائد کی گئی جب سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان مخدوم علی خان نے تین رکنی بینچ کے سامنے اس بات کی نشاندہی کی کہ پچھلی سماعت میں اسلام آباد ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران پر جو فرد جرم عائد کی گئی تھی وہ توہین عدالت ایکٹ اُنیس سو چھہتر کے تحت تھی جو دو ہزار تین میں توہین عدالت کا نیا آرڈیننس آجانے کے بعد غیر موثر ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سترہویں ترامیم کے تحت جن قوانین کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا تھا ان میں توہین عدالت آرڈینسن دو ہزار تین بھی شامل ہے۔ جس کے تحت توہین عدالت کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ نمبر ایک فوجداری توہین عدالت، دو سول توہین عدالت اور تیسری جوڈیشل توہین عدالت۔ اب یہ عدالت پر منحصر ہے کہ وہ کس صورت کا تعین کرتی ہے اور کس کے تحت فرد جرم عائد کرتی ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ اگر ملزمان چاہیں تو اپنے جوابات کو نئی وضاحت کی روشنی میں عدالت کو تحریری طور پر پیش کر سکتے ہیں۔
جن افراد پر پچھلی کارروائی کے دوران فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ ان میں چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز، ڈپٹی کمشنر چودھری محمد علی، آئی جی اسلام آباد پولیس چودھری افتخار احمد، ایس ایس پی اسلام آباد کپٹن ریٹائرڈ ظفر اقبال، ڈی ایس پی جمیل ہاشمی، ایس ایچ او رخسار مہدی اور اے ایس آئی سراج احمد شامل تھے۔ آج آئی جی، چیف کمشنر اور ایس ایس پی کی طرف سے ایڈوکیٹ مجیب الرحمان پیش ہوئے۔ ملزمان رخسار مہدی اور آئی جی کے سیکورٹی گارڈ سراج احمد کی طرف سے قاضی محمد امین جبکہ ڈپٹی کمشنر کی طرف سے راجہ بشیر ایڈوکیٹ جبکہ ڈی ایس پی جمیل ہاشمی کی طرف سے راجہ ابراہیم ستی ایڈوکیٹ پیش ہوئے۔ کارروائی کے دوران ایڈوکیٹ قاضی محمد امین نے کہا کہ وہ نئی فرد جرم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے بلکہ خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں۔ تاہم جمیل ہاشمی کے وکیل راجہ ابراہیم نے کہا کہ عدالت نے جو فرد جرم عائد کی ہے اس میں کئی نقائص ہیں۔ اس کے باوجود بھی عدالت کا احترام کرتے ہوئے غیر مشروط معافی مانگتے ہیں۔ اس پر عدالت نے جیمل ہاشمی کے وکیل سے کہا کہ انہوں جو کچھ کہنا ہے وہ تحریری طور پر داخل کریں۔ عدالت عظمی نے ملزمان کے وکلا کی طرف سے غیر مشروط معافی مانگنے اور اٹارنی جنرل کی طرف سے اعتراضات اُٹھانے پر فرد جرم ارسر نو عائد کرتے ہوئے مزید سماعت پچیس اپریل تک ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ تیرہ مارچ کو جب معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم جوڈیشل کونسل سامنے پیشی کے لیے اپنے گھر سے سپریم کورٹ تک پیدل جانے پر اصرار کیا تو سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی تھی اور اسی دوران چیف جسٹس کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس وقت کے سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے جج اعجاز افصل خان کو انکوائری جج مقرر کیا تھا اور ان کی جانچ مکمل ہونے کے بعد توہین عدالت کے اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ معطل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی تفتیش کرنے والا سپریم کورٹ کا بینچ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس تصدق حیسن جیلانی اور جسٹس ناصرالملک پر مشتعمل ہے۔ | اسی بارے میں جسٹس انکوائری: ’یہ ہاتھ کس کا ہے؟‘27 March, 2007 | پاکستان افسروں پر فردِ جرم عائد کر دی گئی04 April, 2007 | پاکستان ’مشرف کو طلب کیا جا سکتا ہے‘05 April, 2007 | پاکستان مشرف کیلیے جسٹس افتخار بہتر: ملک قیوم06 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||