’مشرف کو طلب کیا جا سکتا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل منیر اے ملک نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف دائر ریفرنس غیر مشروط طور پر واپس لے لیا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اس ریفرنس کے پیچھےجو لوگ تھے ان کو بے نقاب کیا جائے۔ کراچی پریس کلب میں جمعرات کی شام میٹ دی پریس پروگرام سےخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اعتراف کرلینا بھی کہ غلطی ہوئی ہے انصاف کا ایک تقاضا ہے۔ منیر ملک کا کہنا تھا کہ یہ خوف کہ اگر غیرفعال چیف جسٹس بحال ہوگئے تو قیامت ٹوٹ پڑے گی ٹھیک نہیں ہوگا۔’ایسا نہیں ہوگا، میں سمجھتا ہوں کہ اس سے ریاست کے تینوں ستونوں میں توازن پیدا ہوگا اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا بھی یہ ہی موقف ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ اگر وکلاء کے پینل نے یہ ضروری سمجھا کہ جوڈیشل کونسل میں جنرل پرویز مشرف کو بلایا جائے تو ایسا ضرور کیا جائے گا۔
منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کونسل میں سرکاری وکیل خالد رانجھا کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا ہے وہ ایجنسیوں نے کیا ہے وکلاء نے نہیں۔’ ہم جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں یہ ایجنسیوں کا ہتھکنڈہ تھا اور وکلاء کو بدنام کرنے کی ایک سازش تھی۔‘ انہوں نے کہا کہ عدلیہ ہر فوجی کی بی ٹیم رہی ہے مگر یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک چیف جسٹس نے آرمی چیف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ہے کہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے، ورنہ یہ ہوتا تھا کہ ججوں کا گھیراؤ ہوتا تھا یا ان کو حلف کے لئے بلاتے، یا وہ استعفیٰ دیکر گھر چلے جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قوم کی تاریخ میں پہلی بار کسی نے کسی کی آنکھوں میں دیکھا ہے اور کہا ہے کہ نکلو یہاں سے۔ ’یہ کسی بھی اعلیٰ عدالت کے جج کے ساتھ ہوسکتا ہے اس لئے میری عدلیہ کو گزارش ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ اسی طرح ہر باضمیر شہری کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اپنا احتجاج رجسٹرڈ کرائے۔‘ منیرے اے ملک نے بتایا کہ جب جوڈیشل کونسل میں پہلی سماعت کے لئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو سپریم کورٹ لے جایا جارہا تھا تو لوگوں کا ایک ہجوم تھا۔ بقول ان کے اس وقت چیف جسٹس نے انہیں کہا ’اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ گیٹ نہ ٹوٹ جائے کیونکہ یہ سپریم کورٹ ہے، یہ مقدس عمارت ہے۔‘ منیر اے ملک کے مطابق ’اس لئے اس چیف جسٹس اور اس تحریک کا ماضی کی کسی ہلڑبازی سے موازنہ کرنا غلط ہے۔‘ | اسی بارے میں حکومت ریفرنس پر تذبذب کا شکار30 March, 2007 | پاکستان ’کارروائی کھلی عدالت میں‘03 April, 2007 | پاکستان سماعت ملتوی، وکلاء کے مظاہرے03 April, 2007 | پاکستان افتخار: حکومتی وکلاء کا انکار03 April, 2007 | پاکستان تیرہ اپریل کو وکلاء ہڑتال کا اعلان04 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||