رفاقت علی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | ’سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت کے احاطے میں وکلاء کے تحفظ کا انتظام کرے‘ |
جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس میں حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے سپریم جوڈیشل کونسل کو درخواست دی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے احاطے میں سکیورٹی کی خراب صورتحال کی وجہ سے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے سے قاصر ہیں۔ وفاقی وزارتِ قانون کی جانب سے جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس میں حکومتی موقف بیان کرنے پر مامور کیے جانے والے وکیل چودھری عارف نےبی بی سی کو بتایا کہ حکومتی وکلاء نے سپریم جوڈیشل کونسل کو درخواست دائر کی ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے احاطے میں حکومتی وکلاء پر حملہ کیا گیا اور انہوں نے بھاگ کر جان بچائی۔ عارف چودھری نے کہا کہ مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے وکلاء سپریم کورٹ میں دنداناتے پھر رہے تھے جنہوں نے حکومتی وکلاء کو گالیاں دیں اور ان پر حملہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی وکلاء پینل کے سربراہ ڈاکٹر خالد رانجھا نے قائم مقام چیف جسٹس بھگوان داس کو واقع سے آگاہ کیا لیکن جب اس میں زیادہ دلچسی ظاہر نہ کی تو انہوں نے تحریری طور پر سپریم جوڈیشل کونسل کو بتا دیا کہ وہ ان حالات میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش نہیں ہو سکتے۔ عارف چودھری نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت کے احاطے میں وکلاء کے تحفظ کا انتظام کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام کو سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کر رکھا ہے اور وہ ان وکلاء کے اقدام اٹھانے سے گھبرا رہے ہیں۔ |