BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 April, 2007, 22:09 GMT 03:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس افتخار کیس: آج سماعت بھی احتجاج بھی

پولیس نے پیر کی رات اپوزیشن کے کئی ارکان کو گرفتار کیا ہے
پاکستان کے’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے دائر کردہ ریفرنس کی سماعت آج سپریم جوڈیشل کونسل میں پھر شروع ہو رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور وکلاء نے اس موقع پر ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پولیس نے اس احتجاج کو قابو میں رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کی ہے اور پیر کی رات اپوزیشن کے رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔وکلاء تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے اعلان کے مطابق آج مرکزی مظاہرہ اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر ہورہا ہے جبکہ چاروں صوبوں کے دارالحکومتوں اور مختلف اضلاع میں احتجاجی اجتماع اور ریلیاں نکالنے کے اعلانات کیے گئے ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل، جسٹس افتخار کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت بدھ اکیس مارچ کو کرنے والی تھی لیکن بند کمرے میں ہونے والی یہ سماعت شروع ہونے سے صرف چوبیس گھنٹے پہلے کوئی وجہ بتائے بغیر اسے تین اپریل تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔

سماعت کے اس التواء کے بعد رانا بھگوان داس کو پاکستان کا قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا گیا اور خود سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس کو بھی چیلنج کیا گیا۔ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی تقرری کے خلاف بھی مذہبی بنیاد پر ایک درخواست عدالت میں دائر ہوئی ہے۔

جسٹس افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس پر احتجاج گزشتہ ماہ سے جاری ہے اور کئی ججوں نے استعفے دیئے ہیں۔ وکلاء نے بھی صدارتی ریفرنس اور چیف جسٹس افتخار چودھری کی معطلی پر مسلسل احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ ساری رات پولیس اپوزیشن کے سیاسی رہنماؤں اور ان کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارتی رہی۔ لاہور پولیس کے ایک افسر نے دوسو سے زائد افراد کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ نواز اور مجلس عمل کے کارکن شامل ہیں اسی قسم کی گرفتاریوں کی اطلاعات ملک بھر سے ملی ہیں۔جماعت اسلامی کے ترجمان نے کہا ہے کہ راولپنڈی اسلام آْباد میں ان کے سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

متحدہ مجلس عمل یعنی ایم ایم اے کے صدر امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کو کل ہی نظر بند کردیا گیا تھا ایم ایم اے کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے ان کی جگہ آج کے مظاہروں کی قیادت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لاہور میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے فیصلے کے مطابق مال روڈ پر وکیلوں کی ایک ریلی نکالی جائے گی۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے ایک پریس کانفرنس میں لاہور کے ناصر باغ سے لیکر ایوان عدل تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

پنجاب میں نافذ دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت جلسے جلوس نکالنے کی ممانعت ہے تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے حکومت سے کیے گئے وعدے کے مطابق اگر اپنا احتجاج انسانی زنجیر بنانے تک محدود رکھا تو ممکن ہے ان پر سختی نہ کی جائے۔

دوسری طرف پنجاب حکومت نے وکیلوں کے ہر طرح کے پرامن احتجاجی مظاہروں میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے اپنے ایک بیان میں توقع ظاہر کی ہے کہ وکیلوں کی تنظیمیں سیاسی جماعتوں کواپنا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرنے دیں گی۔

جب سے جسٹس افتخار چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر ہوا ہے روزانہ ایک گھنٹہ عدالتی کاموں کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے جس کا دورانیہ اب بڑھا دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ اٹھارو روز سے اضلاع کی بار ایسوسی ایشنز میں وکیلوں کے ہڑتالی کیمپ لگے ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھریجسٹس افتخار کیس
حکومت ریفرنس پر تذبذب کا شکار ہوگئی ہے
پہلا تحریری بیان
جسٹس افتخار جوڈیشل کونسل کے سامنے
مقدمہ اور مقدمے
چیف جسٹس افتخار کا مقدمہ اور مقدمے
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
چھٹے دن بھی احتجاج جسٹس کی پیشی
جسٹس افتخار کی سماعت پر مظاہرے
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد