جسٹس افتخار کیس: آج سماعت بھی احتجاج بھی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے دائر کردہ ریفرنس کی سماعت آج سپریم جوڈیشل کونسل میں پھر شروع ہو رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور وکلاء نے اس موقع پر ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پولیس نے اس احتجاج کو قابو میں رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کی ہے اور پیر کی رات اپوزیشن کے رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔وکلاء تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے اعلان کے مطابق آج مرکزی مظاہرہ اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر ہورہا ہے جبکہ چاروں صوبوں کے دارالحکومتوں اور مختلف اضلاع میں احتجاجی اجتماع اور ریلیاں نکالنے کے اعلانات کیے گئے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل، جسٹس افتخار کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت بدھ اکیس مارچ کو کرنے والی تھی لیکن بند کمرے میں ہونے والی یہ سماعت شروع ہونے سے صرف چوبیس گھنٹے پہلے کوئی وجہ بتائے بغیر اسے تین اپریل تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔
سماعت کے اس التواء کے بعد رانا بھگوان داس کو پاکستان کا قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا گیا اور خود سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس کو بھی چیلنج کیا گیا۔ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی تقرری کے خلاف بھی مذہبی بنیاد پر ایک درخواست عدالت میں دائر ہوئی ہے۔ جسٹس افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس پر احتجاج گزشتہ ماہ سے جاری ہے اور کئی ججوں نے استعفے دیئے ہیں۔ وکلاء نے بھی صدارتی ریفرنس اور چیف جسٹس افتخار چودھری کی معطلی پر مسلسل احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ ساری رات پولیس اپوزیشن کے سیاسی رہنماؤں اور ان کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارتی رہی۔ لاہور پولیس کے ایک افسر نے دوسو سے زائد افراد کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ نواز اور مجلس عمل کے کارکن شامل ہیں اسی قسم کی گرفتاریوں کی اطلاعات ملک بھر سے ملی ہیں۔جماعت اسلامی کے ترجمان نے کہا ہے کہ راولپنڈی اسلام آْباد میں ان کے سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
متحدہ مجلس عمل یعنی ایم ایم اے کے صدر امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کو کل ہی نظر بند کردیا گیا تھا ایم ایم اے کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے ان کی جگہ آج کے مظاہروں کی قیادت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لاہور میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے فیصلے کے مطابق مال روڈ پر وکیلوں کی ایک ریلی نکالی جائے گی۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے ایک پریس کانفرنس میں لاہور کے ناصر باغ سے لیکر ایوان عدل تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب میں نافذ دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت جلسے جلوس نکالنے کی ممانعت ہے تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے حکومت سے کیے گئے وعدے کے مطابق اگر اپنا احتجاج انسانی زنجیر بنانے تک محدود رکھا تو ممکن ہے ان پر سختی نہ کی جائے۔ دوسری طرف پنجاب حکومت نے وکیلوں کے ہر طرح کے پرامن احتجاجی مظاہروں میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے اپنے ایک بیان میں توقع ظاہر کی ہے کہ وکیلوں کی تنظیمیں سیاسی جماعتوں کواپنا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرنے دیں گی۔ جب سے جسٹس افتخار چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر ہوا ہے روزانہ ایک گھنٹہ عدالتی کاموں کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے جس کا دورانیہ اب بڑھا دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ اٹھارو روز سے اضلاع کی بار ایسوسی ایشنز میں وکیلوں کے ہڑتالی کیمپ لگے ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں کونسل کی تشکیل : سماعت ملتوی02 April, 2007 | پاکستان بھگوان داس تعیناتی: وفاق کو نوٹس02 April, 2007 | پاکستان جوڈیشل کونسل: تشکیل کو چیلنج‘30 March, 2007 | پاکستان بدسلوکی کی انکوائری رپورٹ پیش29 March, 2007 | پاکستان ’ظالم معاشرہ زیادہ دن نہیں چل سکتا‘28 March, 2007 | پاکستان جج کے صاحبزادے، جنرل کے داماد27 March, 2007 | پاکستان انکوائری، ہائی کورٹ جج کریں گے20 March, 2007 | پاکستان کئی جج مستعفی، مظاہرے اور ہڑتالیں جاری19 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||