BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 March, 2007, 08:59 GMT 13:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انکوائری، ہائی کورٹ جج کریں گے

جسٹس چودھری کی معطلی پر وکلاء کا احتجاج جاری ہے
پاکستان سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ پولیس کی مبینہ بدسلوکی کی تحقیقات پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعجاز افضل کریں گے۔

سپریم کورٹ نے لاہورمیں وکلاء اور صحافیوں پر پولیس کے لاٹھی چارج کی بھی انکوئری کا حکم جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے لاہور کے واقعے کی تحقیق کے لیے جسٹس سید زاہد حسین کو تعینات کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے تیرہ مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیشی کے موقع پر ’معطل‘ چیف جسٹس کے ساتھ پولیس کی مبینہ بدسلوکی کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد کے اہلکاروں کو طلب کیا تھا۔

قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ارشاد کا موقف سننے کے بعد حکم دیا کہ اس سارے معاملے کی انکوئری ہائی کورٹ کا جج کرے گا جو اپنی رپورٹ ایک ہفتہ میں مرتب کر لے گا۔

قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ کسی ایک شخصیت کا نہیں بلکہ عدالتی ادارے کی عزت وقار کا ہے اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔

عدالت نے اسلام آباد پولیس کے افسران کو حکم دیا ہے کہ وہ تیرہ مارچ کے سکیورٹی پلان کو عدالت کے سامنے لائیں۔

سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان کو ہدایت کی کہ چیف جسٹس افتخار حسین کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مکمل تحقیق کریں۔
سپریم کورٹ نے انکوئری جج کو ہدایت وہ واقعے کے ذمہ افسران کا تعین کرے اور آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے تجاویز بھی پیش کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد