انکوائری، ہائی کورٹ جج کریں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ پولیس کی مبینہ بدسلوکی کی تحقیقات پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعجاز افضل کریں گے۔ سپریم کورٹ نے لاہورمیں وکلاء اور صحافیوں پر پولیس کے لاٹھی چارج کی بھی انکوئری کا حکم جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے لاہور کے واقعے کی تحقیق کے لیے جسٹس سید زاہد حسین کو تعینات کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے تیرہ مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیشی کے موقع پر ’معطل‘ چیف جسٹس کے ساتھ پولیس کی مبینہ بدسلوکی کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد کے اہلکاروں کو طلب کیا تھا۔ قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ارشاد کا موقف سننے کے بعد حکم دیا کہ اس سارے معاملے کی انکوئری ہائی کورٹ کا جج کرے گا جو اپنی رپورٹ ایک ہفتہ میں مرتب کر لے گا۔ قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ کسی ایک شخصیت کا نہیں بلکہ عدالتی ادارے کی عزت وقار کا ہے اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ عدالت نے اسلام آباد پولیس کے افسران کو حکم دیا ہے کہ وہ تیرہ مارچ کے سکیورٹی پلان کو عدالت کے سامنے لائیں۔ سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان کو ہدایت کی کہ چیف جسٹس افتخار حسین کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مکمل تحقیق کریں۔ | اسی بارے میں وکلاء جسٹس افتخار سے مل سکتے ہیں19 March, 2007 | پاکستان کئی جج مستعفی، مظاہرے اور ہڑتالیں جاری19 March, 2007 | پاکستان پاکستان بھر میں احتجاج جاری19 March, 2007 | پاکستان عدالتوں میں ’معائنہ ٹیمیں‘20 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||