BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 March, 2007, 07:58 GMT 12:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدالتوں میں ’معائنہ ٹیمیں‘

ہائی کورٹ
تمام ہائی کورٹس میں انسپیکشن ٹیموں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے
پاکستان کے قانون و انصاف کے متعلق کمیشن نے ہائی کورٹ کے ماتحت عدالتوں کے ججوں اور عملے کے خلاف شکایات اور مقدمات جلد نمٹانے کے لیے چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس میں ’انسپکشن ٹیمیں‘ قائم کی ہیں۔

کمیشن کی ایک ریسرچ آفیسر فوزیہ جلال نے بتایا کہ کوئی بھی شہری ماتحت عدالتوں کے ججوں اور عملے کے اراکین کی جانب سے رویہ، مزاج، نسل، مذہب، قومیت، معذوری، عمر، سماجی یا اور معاشی حیثیت کی بنیاد پر تعصب یا امتیاز کے خلاف معائنہ ٹیم کو شکایات بھیج سکتا ہے۔

لاء کمیشن کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں جوابدہی کے نظام کو اجاگر کرنے کے لیے تمام ہائی کورٹس میں انسپیکشن ٹیم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

یہ ٹیمیں ماتحت عدالتوں کے جج صاحبان اور اہلکاروں کے خلاف ضابطہ کے مطابق غیر رسمی شکایات نمٹانے، ماتحت عدالتوں کی کارکردگی پر نظر رکھنے اور وکلاء اور موکلوں کی سہولت کے لیے مقدمات کو جلد نمٹانے کے بارے میں اقدامات کے لیے تجاویز مرتب کریں گی۔

کمیشن کے مطابق انسپیکشن ٹیم متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی ہدایات پر عمل درآمد کرانے اور انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت دائر کردہ اور نمٹائے جانے والے مقدمات کا ریکارڈ بھی تیار کرے گی۔

انسپیکشن ٹیم فوجداری عدالتوں میں معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کے مقدمات کو جلد نمٹانے کے بارے میں رپورٹس تیار کرے گی اور چیف جسٹس کی طرف سے وقت بوقت جاری کی گئی ہدایات کے مطابق عمل کرنے کی پابند ہوگی۔

ماتحت عدالت کے جج یا اہلکار کے خلاف موصول ہونے والی شکایات پر تحقیق اور جوابدہی کا عمل دو ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں شکایت کنندگاں کو ضلعی بار کونسل میں دستیاب مخصوص فارم پُر کرنا ہوں گے۔

شکایت کنندگاں درخواست پر واضح طور پر ’شکایت‘ لکھ کر بھجوائے گا جس پر ایک ہفتے کے اندر کارروائی کی جائے گی۔

درخواست میں شکایت کنندگان اور جس کے خلاف شکایت کی گئی ہے ان کی واضح شناخت ہونی چاہیے تاہم شکایت کنندہ کا نام عدالتی آفیسر یا عدالتی اہلکار پر ظاہر نہیں کیا جائے گا۔

لاء کمیشن نے وضاحت کی ہے کہ ماتحت عدالت کے کسی فیصلے یا عدالتی حکم کے خلاف کوئی شکایت انسپیکشن ٹیم کو نہیں کی جاسکے گی۔

اسی بارے میں
توہین رسالت کا ایک اور مقدمہ
03 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد