BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 June, 2006, 18:39 GMT 23:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حزب اختلاف کے چار اراکین پر مقدمہ

سندھ اسمبلی
حزب اختلاف کے ارکان کو اس معاملے پر دو دن کے لیئے معطل کر دیا گیا تھا
سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نثار کھوڑو سمیت چار اراکین اسمبلی کے خلاف مارپیٹ اور دہمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

سندھ اسمبلی میں حکمران جماعت کے اقلیتی رکن ایشور لال کی شکایت پر یہ مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے حزب اختلاف کی رکن شازیہ مری کو چٹھی لکھنے پر اسمبلی کے اندر حزب اختلاف کے اراکین نے ایشور لال کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

اپنی رولنگ میں سپیکر نے ایشور لال کو قصوروار قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کے بھی چار اراکین کی رکینت عارضی بنیاد پر معطل کردی تھی۔

شہر کے پریڈی تھانے پر ایشور لال نے اپوزیشن رہنما نثار کھوڑ، منور عباسی،علی نواز چانڈیو، سلیم ہنگورو اور مراد علی شاہ پر مقدمہ دائر
کروایا ہے۔

سندھ اسمبلی میں منگل کے روز بجٹ پر جاری بحث کے دوران جب حزب اختلاف کے اراکین پر مقدمہ دائر کرنے کی اطلاع پہنچی تو پی پی پی کے رکن قائم علی شاہ نے سپیکر سے مخاطب ہوکر کہا کہ ان اراکین پر بلاجواز مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ جبکہ اس معاملے پر وہ پہلے ہی رولنگ دے چکے ہیں۔

 سپیکر نے خود فیصلہ دیا تھا کہ مجرم ایشور لال ہے، اسمبلی کے باقی دورانیے کے لیئے اسے معطل کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے ممبران نے اچھا نہیں کیا اس لیئے ان کی رکنیت دو دن کے لیئے معطل کی گئی تھی۔
نثار کھوڑو

سپیکر سید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ ان کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے مگر مقدمہ دائر کروانا ممبر کا حق ہے۔

اپوزیشن اراکین نے سپیکر کے ریمارکس پر احتجاج کیا اور بجٹ کی کارروائی کے دوران اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔

قائد حزب اختلاف نثار کھوڑو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سپیکر نے خود فیصلہ دیا تھا کہ مجرم ایشور لال ہے، اسمبلی کے باقی دورانیے کے لیئے اسے معطل کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے ممبران نے اچھا نہیں کیا اس لیئے ان کی رکنیت دو دن کے لیئے معطل کی گئی تھی۔

نثار کھوڑو کے مطابق سپیکر نے قانونی پیچدگیوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فیصلہ دیا تھا اور اس وقت اگر وہ یہ کہتے کہ مقدمہ بھی دائر کیا جائےگا تو اور بات تھی۔

مگر ایک جرم کی دو سزائیں نہیں دی جاسکتی ہیں۔

اپوزیشن رہنما نے کہا کہ اگر گرفتار کیا گیا تو دوسرے ساتھیوں کے ساتھ چلے جائیں گے۔ مقدمات تو بنتے رہتے ہیں اگر کسی بیٹی کی عزتی بچانے کے لیئے مقدمہ بنتا ہے تو مجھ پرواہ نہیں ہے۔

دوسری جانب سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے مقدمے پر تبصرے کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون اپنے طور پر چلے گا اسے کوئی روک نہیں سکتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس نے مقدمہ دائر کروایا ہے اسی سے جاکر پوچھیں کہ مقدمہ کیوں درج کروایا ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا چٹھی لکھنے والے ممبر پر بھی اگر اپوزیشن مقدمے دائر کروانا چاہیں تو انہوں نے کہا اس بارے میں قانون کا جائزہ لینا پڑے گا۔

اس سے قبل سندھ اسمبلی نے اپوزیشن کی غیرموجودگی میں آئندہ مالی سال کا ایک سو ترانوے ارب روپے کا بجٹ منظور کرلیا جبکہ اپوزیشن کی چار سو سے زائد کٹوتی کی تحریکیں رد کردی گئیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد