’مزاج پرسی‘ پر ایم پی اے معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ اسمبلی کے سپیکر نے خاتون رکن اسمبلی کو خط لکھنے والے اقلیتی رکن اسمبلی ایشور لال اور انہیں زدوکوب کرنے والے چار اپوزیشن اراکین کی رکنیت معطل کر دی ہے۔ جمعرات کو جیسے ہی صوبائی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو سپیکر مظفر حسین شاہ نے رولنگ دی کہ بدھ کو پیش آنے والا واقعہ قابلِ مذمت ہے اور اس سے ایوان کا تقدس پامال ہوا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے خط تحریر کرنے والے رکن اسمبلی ایشور لال کی رکنیت پورے بجٹ سیشن کے لیئے اور اپوزیشن اراکین مراد علی شاہ، محمد نواز چانڈیو، سلیم ہنگورو اور منور عباسی کی رکنیت دو روز کے لیئے معطل کر دی۔ سپیکر کی رولنگ پر اپوزیشن اراکین نے کھڑے ہوکر احتجاج کیا اور اسے ناانصافی قرار دیا جس پر سپیکر نے انہیں متنبہ کیا اور ایک گھنٹے کے لیئے اجلاس ملتوی کردیا۔ وقفے کے بعد جیسے ہی اجلاس شروع ہوا تو سپیکر نے نشاندہی کی کہ معطل اراکین ایوان میں موجود ہیں جس پر اپوزیشن اراکین نے شور مچانا شروع کر دیا اور سپیکر نے جمعہ کے دن تک اجلاس ملتوی کر دیا۔ دوسری جانب ایشور لال کا کہنا ہے کہ انہوں نے شازیہ مری کی طبیعت معلوم کرنے کے لیے چٹھی لکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہے کہ انہیں معلوم ہوا تھا کہ شازیہ کی طبیعت ناساز ہے اور انہوں نے ساتھی ممبر ہونے کے ناتے خیریت معلوم کرنے کے لیے خط لکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی ممبران پرچی لکھے کر ایک دوسرے کی طبیعت دریافت کرتے رہے ہیں۔ ایشور کے مطابق ایک اقلیتی رکن ہونے کی وجہ سے پی پی پی کے اراکین نے ان سے غیر پارلیمانی رویہ اختیار کیا ہے۔
بعد ازاں سپیکر مظفر علی شاہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کارروائی کی ویڈیو دیکھی تھی جبکہ اسمبلی سیکرٹری نے بھی اپنی رپورٹ جمع کروائی تھی جس کے بعد انہوں نے یہ قدم اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ سندھ اسمبلی میں ایسا واقعہ ہوا ہے اور مستقبل میں ایسا عمل روکنے کے لیئے ہی یہ کارروائی کی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ سال پہلے ہاؤس میں سّسی پلیجو نے شکایت کی تھی کہ پچھلے بنچوں پر بیٹھے لوگ جملے کستے ہیں اور ایسی حرکتیں ہوتی ہیں جو وہ برداشت نہیں کر سکتیں جس پر انہوں نے نوٹس لیتے ہوئے پیچھے بیٹھنے والے ممبران کو وارننگ دے کر خاموش کر دیا تھا۔ اپوزیشن رہنما نثار کھوڑو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایشور لال پہلے بھی ایسی حرکتوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایشور لال کا سیٹ نمبر ایک سو چوبیس ہے جو وزیرِاعلی کے پیچھے والی نشستوں میں سے ہے مگر وہ اپوزیشن اراکین کی پیچھے والی نشتسوں پر ہی بیٹھتے تھے۔
نثار کھوڑو کے مطابق جب سسّی پلیجو اور کلثوم نظامانی نے شکایت کی تھی تب بھی سپیکر کو آگاہ کیا گیا تھا مگر سپیکر نے کوئی نوٹس لیئے بغیر اس سلسلے کو جاری رہنے دیا اور یوں خود ایوان کے تقدس کی پامالی کی۔ اپوزیشن رہنما کا کہنا تھا کہ سیپکر کی اس رولنگ سے خاتون اراکین مایوس ہوئی ہیں اور اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ آئندہ کوئی اپنی بےعزتی کی شکایت نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی خاتون رکن بولے گی اور اس کے بھائی مدد کو آئینگے تو سپیکر ان کوسزا دے گا‘۔ معطل اپوزیشن ممبر سلیم ہنگورو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ اپنی بہن کی عزت کے لیئے جو کچھ ہو سکا ہم نے کیا ہےاگر ایشور لال کا یہ رویہ جاری رہا تو ہم ایسا بار بار کرتے رہیں گے۔ | اسی بارے میں خط لکھنے پر ایم پی اے کی پٹائی21 June, 2006 | پاکستان پنجاب اسمبلی: الزامات و طعنے09 June, 2006 | پاکستان ارکانِ قومی اسمبلی کا حلوہ کرکرا21 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||