خط لکھنے پر ایم پی اے کی پٹائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ اسمبلی کی ایک خاتون رکن کو خط لکھنے پر ایک اقلیتی ایم پی اے کو ایوان میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سندھ اسمبلی کے سپیکر نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ بدھ کے روز صوبائی اسمبلی میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اپوزیشن کے اراکین مراد علی شاہ، سلیم ہنگورو اور نواز چانڈیو نے مسلم لیگ ( ق) سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رکن ایشور لال کی نشست پر جا کر انہیں باہر چلنے کو کہا مگر انہوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ ایوان کی کارروائی کے دوران ہی ان ممبران میں تلخ کلامی کے بعد ہاتھا پائی شروع ہوگئی اور اپوزیشن اراکین نے ایشور لال پر گھونسے اور لاتیں برسانا شروع کردیں۔ اس پر ایوان میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور کارروائی ملتوی کردی گئی جبکہ ایشور لال ایوان سے چلے گئے۔ حزب اختلاف کے سربراہ نثار کھوڑو نے صحافیوں کو بتایا کہ حکمران جماعت کے رکن ایشور لال اپوزیشن کی رکن اسمبلی شازیہ مری کو مسلسل تنگ کر رہے تھے اور انہوں نے بدھ کے روز کارروائی کے دوران انہیں ایک خط بھی لکھا۔ نثار کھوڑو کے مطابق شازیہ مری نے اس معاملے کی شکایت ان سے کی اور انہوں نے خط لانے والے قاصد سے جب یہ معلوم کیا کہ یہ چٹھی کس نے بھیجی ہے تو اس نے بتایا کہ یہ خط ایشور لال نے شازیہ مری کو دینے کے لیئے کہا تھا۔
قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھی ایشور لال سے بات کرنے کے لیئے ضرور گئے تھے لیکن انہوں نے جھگڑا نہیں کیا۔ اپوزیشن اراکین نے سپیکر سید مظفر شاہ سے ملاقات کر کے ایشور لال کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔تاہم سپیکر کا کہنا تھا کہ اگر اراکین ایشور پر تشدد کرنے سے پہلے ان کے پاس آتے تو وہ ضرور ان کی رکنیت معطل کرتے۔ سپیکر نے اسمبلی کے سیکرٹری کو معاملے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔ اس سلسلے میں جب رکن ِ اسمبلی ایشور لال سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا فون مسلسل بند ملا ۔ دوسری جانب صوبائی وزیر قانون چوھدری افتخار احمد نے کہا ہے کہ ایشور لال کا یہ عمل قابل مذمت ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے ایشور لال کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سپیکر سے ایشور لال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن اراکین کی جانب سے قانون ہاتھ میں لینے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ ان کے خلاف بھی اسمبلی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔ مسلم لیگ ق کے رہنما صوبائی وزیر نادر اکمل لغاری نے کہا ہے کہ ہم دونوں واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔ نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ ہم انتظار کریں گے اور اگر ممبر صوبائی اسمبلی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو اپوزیشن لائحہ عمل طے کرے گی۔ رکن اسمبلی شازیہ مری کا کہنا تھا کہ ایشور لال اس سے قبل رکن اسمبلی سسّی پلیجو اور کلثوم نظامانی کو بھی ایسی چھٹیاں لکھتے رہے ہیں۔ شازیہ کے مطابق کہا جاتا ہے کہ یہ گریجویٹ اسمبلی ہے لیکن اس میں ایسے لوگ بیٹھے ہیں۔ | اسی بارے میں پنجاب اسمبلی: الزامات و طعنے09 June, 2006 | پاکستان ارکانِ قومی اسمبلی کا حلوہ کرکرا21 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||