ارکانِ قومی اسمبلی کا حلوہ کرکرا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں، قومی اسمبلی کے کئی ارکان نے آج اسمبلی کیفے ٹیریا میں تیار کیئے گئے حلوے میں ریت پائے جانے کی شکایت کی جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نے کہا کہ آج جب انہوں نے کیفے ٹیریا میں حلوہ کھایا تو اس میں ایک چوتھائی ریت موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے کیفے ٹیریا میں پارلیمان کے ارکان کھانا کھاتے ہیں اور اس طرح کے آلودہ کھانے کھانے سے ارکان کی صحت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ وزیر کے مطابق ان کی شکایت کرنے کے بعد یہ حلوہ کیفے ٹیریا کی انتظامیہ نے تلف کر دیا۔ تاہم ڈاکٹر شیر افگن کے مطابق کیفے ٹیریا کی انتظامیہ کے خلاف مضر صحت حلوہ کھلانے پر پولیس سٹیشن میں کیس درج کروانا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ کیفے ٹیریا کی سابق انتظامیہ کو بھی انہی الزامات کے تحت بدل دیا گیا تھا مگر نئی انتظامیہ نے بھی وہی روش اپنائی ہے۔ اس پر قومی اسمبلی کے سپیکر چوہدری امیر حسین نے اسمبلی کے سیکریٹری کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں۔
دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رکن اسمبلی مولانا غفور حیدری نے بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے پر زور دیا اور کہا کہ ابھی تو حلوے میں ریت پائی گئی ہے اگر کل کلاں کو ممبران اسمبلی کو حلوے میں زہر ڈال کر دے دیا گیا تو کیا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف ممبران کی صحت کا نہیں بلکہ ان کی حفاظت کا بھی ہے۔ کئی اراکین اسمبلی نے اشیائے خور دو نوش میں ملاوٹ کو روکنے کے لیئے قانون سازی کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ پاکستان کے عوام کے لیئے بازاروں میں دستیاب اشیائے خور دو نوش میں ملاوٹ کی شکایات عام ہیں مگر حکومت اس معاملے پر کوئی ایکشن نہیں لیتی۔ | اسی بارے میں رکن قومی اسمبلی سعد رفیق رہا22 May, 2006 | پاکستان قومی اسمبلی میں احتجاج، واک آؤٹ16 December, 2005 | پاکستان سینٹ اور قومی اسمبلی میں احتجاج13 September, 2005 | پاکستان سپیکر قومی اسمبلی کی دھمکی04 March, 2005 | پاکستان قومی اسمبلی کے سیکریٹری معطل24 February, 2005 | پاکستان شازیہ: قومی اسمبلی میں احتجاج23 February, 2005 | پاکستان قومی اسمبلی کے اجلاس پر احتجاج 14 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||