BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 October, 2004, 07:01 GMT 12:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قومی اسمبلی کے اجلاس پر احتجاج

اسمبلی کا اجلاس پہلے سے شیڈول نہیں تھا
اسمبلی کا اجلاس پہلے سے شیڈول نہیں تھا
پاکستان حکومت نے طے شدہ شیڈول سے ہٹ کر بدھ کی شام اچانک قومی اسمبلی کا اجلاس بلا لیا جس کا مقصد صدر کے دو عہدے رکھنے کے متعلق بل پر بحث کرنا اور اسے منظور کرانا تھا۔ حزب اختلاف کی جانب سے شدید احتجاج کی وجہ سے بل منظور نہیں ہوسکا اور اجلاس کی کاروائی جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔

منگل کی شام کو قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بدھ کو قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اراکین کو اطلاع دی کہ حکومت نے بدھ کو اجلاس طلب کرلیا ہے۔

بدھ کے روز ایجنڈے پر وقفۂ سوالات بھی نہیں رکھے گئے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے شیڈول کے برعکس اجلاس بلانے اور وقفہ سوالات ایجنڈے پر نہ لانے کے خلاف سخت احتجاج کیا لیکن سپیکر نے ان کا احتجاج مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ جنہوں نے کیا اس کا انہیں اختیار حاصل ہے۔

حکومت کی جانب سے جب قوائد معطل کرکےصدر کے دو عہدوں کے بل کے بارے میں ایوان کی وزارت قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پر غور کرنے کی تحریک پیش کی تو ایوان میں شدید ہنگامہ ہوگیا۔ حزب اختلاف کے اراکین ’نو مشرف نو‘ اور ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگاتے ہوئے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے جبکہ متحدہ مجلس عمل کے کئی اراکین سپیکر کے آگے جمع ہوکر نعرے لگاتے رہے۔

حزب اختلاف کے شور شرابے اور احتجاج کے دوران سپیکر چودھری امیر حسین نے کارروائی جاری رکھی اور اکثریت رائے کی بنا پر قوائد معطل کرکے بل پر بحث شروع کرادی۔

حزب اختلاف کے رکن اسمبلی چودھری اعتزاز احسن نے اس بل کو غیر آئینی قرارد یتے ہوئے حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارلیمان کے وقار کو مجروح نہ کریں۔

ایک موقع پر چودھری نثار علی خان اور اعجاز الحق میں نوک جھونک چلتی رہی اور نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ایک فوجی افسر کو ملک کا صدر بنانے کی نئی روایت ڈالنے کا بل جمھوریت کے لیے خطرناک عمل ہے۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ انہوں نے فوج کو سیاست سے نکالنے کے لیے واپسی کا محفوظ راستہ دینے کے لیے سمجھوتہ کیا جس کے نتیجے میں سترویں آئینی ترمیم کا بل منظور کرایا، لیکن انہیں آج افسوس ہورہا ہے جب صدر جنرل پرویز مشرف قوم سے کیے گئے وعدے کے مطابق اکتیس دسمبر سن دو ہزار چار تک فوجی وردی نہیں اتار رہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ جنرل پرویز مشرف کو کمال اتا ترک بننے نہیں دیں گے اور ان کے خلاف پارلیمان کے بجائے گلیوں اور سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکلیں گے۔انہوں نے صدر کے وردی نہ اتارنے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت اور مجلس عمل میں مذاکرات کے متعلق ’ڈائیلاگ‘ کے عنوان سے کتاب لکھی ہے جس میں علامہ اقبال یہ شعر بھی درج ہے کہ:

بیچارہ پیادہ تو ہے اک مہرہ نا چیز
فرزین سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ

قاضی کے مطابق فرزین سے مراد وزیراعظم جمالی، پیادہ غالبا خود ایس ایم ظفر اور شاطر سے مراد جنرل پرویز مشرف ہیں۔

اعتزاز احسن اور قاضی حسین احمد نے وزیراعظم شوکت عزیز کے متعلق طنزیہ جملے بھی کہے۔ ایک موقع پر اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ ایسے وزیراعظم ہیں کہ اپنے وزراء تو دور کی بات عملے کے لوگوں کو بھی نہیں پہچانتے۔

اعتزاز نے دعویٰ کیا کہ ایک شخص کو انہوں نے انتخابات کے موقع پرگلے لگا کر کہا کہ آپ کی مہربانی آپ دور سے ملنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق اس شخص نے شوکت عزیز کے کان میں کہا کہ وہ ان کے ڈرائیور ہیں۔

قاضی حسین احمد نے وزیراعظم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ باہر نکلتے ہیں سڑکیں بند کردی جاتی ہیں اور لوگ انہیں گالیاں دیتے ہیں۔ ان کے اس جملے کی کچھ دیر بعد وزیراعظم ایوان سے چلے گئے۔

پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے حزب اختلاف کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سترویں آئینی ترمیم میں متحدہ مجلس عمل نے خود ایک گنجائش چھوڑی تھی کہ ایک سادہ قانون منظور کرانے سے صدر مشرف آرمی چیف کا عہدہ رکھ سکتے ہیں۔

حکومتی رکن اسحاق خاکوانی نے مجلس عمل کے رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا اگر انہیں معاہدے کی تفصیلات کا علم نہیں تھا تو انہیں پارلیمان میں بیٹھنے کا حق ہی نہیں اور وہ مستعفی ہوکر گھر جائیں۔

بحث جاری تھی کہ اجلاس کی کاروائی جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔ تجزیہ نگارو کی رائے ہے کہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ وہ جلد سے جلد اسمبلی سے یہ بل منظور کرائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد