BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 September, 2006, 21:52 GMT 02:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گزشتہ سال: چودہ ہزار مقدمات زیرِ التوا رہے

گزشتہ عدالتی سال کے دوران چوبیس ہزار مقدمات نمٹائے گئے
پاکستان کی عدالت اعظمیٰ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ گزشتہ عدالتی سال کے دوران چوبیس ہزار مقدمات نمٹائے اور چودہ ہزار مقدمات التوا کا شکار رہے۔

یہ بات انہوں نے پیر کے روز نئے عدالتی سال کے آغاز کے سلسلے میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں سپریم کورٹ کے تمام ججوں اور کئی وکلا کے علاوہ چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرل بھی شریک ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ اگست دو ہزار پانچ تک چھبیس ہزار مقدمات زیر التوا تھے جبکہ اکتیس اگست سن دو ہزار چھ تک بارہ ہزار نئے مقدمات داخل ہوئے۔ ان کے مطابق اس عرصے میں عدالت نے چوبیس ہزار مقدمات نمٹائے جبکہ چودہ ہزار مقدمات زیر سماعت رہے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد اور ساکھ اس وقت ہی بہتر ہوسکتی ہے جب عدالتی نظام سستا، فوری اور غیر جانبدارانہ انصاف فراہم کرے۔ ان کے مطابق تنازعات کا تصفیہ کرتے وقت عدالتوں کا کوئی منظور نظر یا پسند اور ناپسند نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے زیر التوا مقدمات کی تعداد میں اضافے پر تشویش ظاہرکی اور کہا کہ چاروں ہائی کورٹس میں ایسے مقدمات کی تعداد بہت ہے اور ماتحت عدالتوں میں اس طرح کے مقدمات ہائی کورٹس سے بھی زیادہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج موسم گرما کی چھٹیوں میں بھی کام کرتے رہے لیکن انہوں نے کہا کہ اگر زیر التوا مقدمات کی تعداد کم کرنی ہے تو ججوں کو زیادہ وقت دینا ہوگا۔

اسی بارے میں
ونی :سپریم کورٹ میں سماعت
24 February, 2006 | پاکستان
سپریم کورٹ کے لیے پانچ نئے جج
14 September, 2005 | پاکستان
سپریم کورٹ کا از خود نوٹس
21 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد