گزشتہ سال: چودہ ہزار مقدمات زیرِ التوا رہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی عدالت اعظمیٰ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ گزشتہ عدالتی سال کے دوران چوبیس ہزار مقدمات نمٹائے اور چودہ ہزار مقدمات التوا کا شکار رہے۔ یہ بات انہوں نے پیر کے روز نئے عدالتی سال کے آغاز کے سلسلے میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں سپریم کورٹ کے تمام ججوں اور کئی وکلا کے علاوہ چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرل بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ اگست دو ہزار پانچ تک چھبیس ہزار مقدمات زیر التوا تھے جبکہ اکتیس اگست سن دو ہزار چھ تک بارہ ہزار نئے مقدمات داخل ہوئے۔ ان کے مطابق اس عرصے میں عدالت نے چوبیس ہزار مقدمات نمٹائے جبکہ چودہ ہزار مقدمات زیر سماعت رہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد اور ساکھ اس وقت ہی بہتر ہوسکتی ہے جب عدالتی نظام سستا، فوری اور غیر جانبدارانہ انصاف فراہم کرے۔ ان کے مطابق تنازعات کا تصفیہ کرتے وقت عدالتوں کا کوئی منظور نظر یا پسند اور ناپسند نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے زیر التوا مقدمات کی تعداد میں اضافے پر تشویش ظاہرکی اور کہا کہ چاروں ہائی کورٹس میں ایسے مقدمات کی تعداد بہت ہے اور ماتحت عدالتوں میں اس طرح کے مقدمات ہائی کورٹس سے بھی زیادہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج موسم گرما کی چھٹیوں میں بھی کام کرتے رہے لیکن انہوں نے کہا کہ اگر زیر التوا مقدمات کی تعداد کم کرنی ہے تو ججوں کو زیادہ وقت دینا ہوگا۔ | اسی بارے میں ونی :سپریم کورٹ میں سماعت24 February, 2006 | پاکستان سپریم کورٹ کے لیے پانچ نئے جج14 September, 2005 | پاکستان سپریم کورٹ کا از خود نوٹس21 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||