BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 February, 2007, 13:23 GMT 18:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب: دو مقدمے پانچ کو پھانسی

پھانسی
ایک ملزم کو آخری وقت تک یہ امید تھی کہ اس کی سزائے موت معاف ہوجائے گی
منگل کی صبح پنجاب میں قتل کے دو الگ الگ مقدموں میں سزا یافتہ پانچ افراد کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔

جیل حکام کے مطابق بہاولپور میں تین اور گوجرانوالہ اور گجرات میں ایک ایک سزا یافتہ شخص کو پھانسی دی گئی۔

بہاولپور سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ طارق بابر نے کہا کہ آج صبح اُچ شریف سے تعلق رکھنے والے تین افراد اسماعیل، نذر حسین اور عبیداللہ کو دی گئی پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا گیا۔

جیل حکام کے مطابق پھانسی پانے والوں کی عمریں چالیس سے پچاس برس کے درمیان تھیں۔

جیل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ انہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انیس سو اٹھانوے میں سزائے موت کا حکم دیا تھا جسے اعلی عدالتوں نے برقرار رکھا۔

ان تینوں افراد پر یہ جرم ثابت ہوا تھا کہ انہوں نے انیس سو ستانوے میں اوچ شریف میں ایک بنک پر ڈکیتی کرتے ہوئے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا جب کہ ایک سب انسپکٹر پولیس سمیت متعدد افراد کو زخمی کردیا تھا۔

بہاولپور جیل سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ ایک ملزم عبیداللہ نے اپنے آخری وصیت میں کہا کہ اس کی تمام جائیداد اس کے بیٹے دانیال کو دی جائے اور اس کی قبر اس کی والد کی قبر کے ساتھ بنائی جائے۔

دوسری طرف گوجرانوالہ میں پھالیہ کے رہائشی ایک پینتیس سالہ شخص محمد منیر کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔

نو سال پہلے منیر اور اس کے رشتے دار بھائی اڑتیس سالہ رخسار احمد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انیس سو چھیانوے میں دو عورتوں سمیت چار افراد کو دیرینہ دشمنی کی بنا پر قتل کرنے کا جرم ثابت ہونے پر پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

دشمنی کو آگے نہ بڑھائیں
 منیر نے اپنی آخری وصیت میں اپنے ورثا سے کہا کہ وہ غصہ پر کنٹرول کریں اور اس دشمنی کو آگے نہ بڑھائیں

اس کا ایک بھائی صغیر احمد اس مقدمہ میں اشتہاری ہے اور اس کے دائمی وارنٹ گرفتاری نکلے ہوئے ہیں۔

منیر کی پھانسی کے وقت موجود سپیشل میجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ اسے آخری وقت تک یہ امید تھی کہ اس کی سزائے موت معاف ہوجائے گی اور جب اسے کال کوٹھری سے نکالا گیا تو اس نے جیل حکام سے پوچھا کہ کیا خوش خبری مل گئی ہے جس پر اسے کہا گیا کہ وہ مقتول کے ورثا سے بات کر لے۔

تاہم قتل ہونے والی رسولاں بی بی کے شوہر وقاص نے (جو اس موقع پر موجود تھے) منیر کو دیکھ کر منہ پھیر لیا اور کہا کہ وہ صلح نہیں کرسکتے۔

مجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ یہ سن کر منیر گر پڑا اور اسے سٹیچر پر ڈال کر پھانسی گھاٹ تک لے جایا گیا۔

منیر کنوارا تھا اور اس کی لاش اس کی ضعیف والدہ نے وصول کی۔

جیل حکام کے مطابق منیر نے اپنی آخری وصیت میں اپنے ورثا سے کہا کہ وہ غصہ پر کنٹرول کریں اور اس دشمنی کو آگے نہ بڑھائیں۔

دوسری طرف اس مقدمہ کے دوسرے سزا یافتہ رخسار احمد نے خواہش کی تھی کہ اسے اس کے آبائی ضلع منڈی بہاؤالدین میں پھانسی دی جائے لیکن وہاں جیل میں پھانسی گھاٹ نہ ہونے کی وجہ سے اسے قریب ترین گجرات جیل میں پھانسی پر لٹکایا گیا۔

اسی بارے میں
بچوں نے پھانسی سے بچا لیا
07 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد