BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 March, 2007, 12:25 GMT 17:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان بھر میں احتجاج جاری

کراچی میں وکلاء
کراچی بار ایسوسی ایشن نے سٹی کورٹ سے ایک احتجاجی جلوس نکالا
چیف جسٹس کی معطلی اور لاہور میں وکیلوں پر تشدد کے خلاف پاکستان بھر میں وکلاء کا احتجاج جاری ہے۔

کراچی سے ریاض سہیل کی رپورٹ کے مطابق احتجاج کےدوران وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے سندھ ہائی کورٹ کی مرکزی عمارت میں داخل ہو کر عدالتی کمروں میں رکھے سامان کی توڑ پھوڑ کی ہے جب کہ کمروں میں موجود افراد اور وکلاء کو عدالتی کمروں سے زبردستی باہر نکال دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں کراچی بار ایسوسی ایشن نے سٹی کورٹ سے ایک احتجاجی جلوس بھی نکالا جس کی قیادت جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اور پاکستان بار کونسل کے نائب صدر علی احمد کرد کر رہے تھے۔

جلوس ایم اے جناح روڈ اور برنس روڈ سے ہوتا ہوا ہائی کورٹ پہنچا جہاں وکلاء کے رہنماؤں نے تقاریر کیں۔ اس دوران ہائی کورٹ میں موجود وکلاء کو سپیکر کے ذریعے باہر آکر احتجاج میں شامل ہونے کے لیے کہا گیا۔

ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار الحسن نے مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس تحریک میں ہائی کورٹ بار بھی ان کے ساتھ شامل ہے۔

اعلان کے مطابق مظاہرین کو وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کرنا تھا تاہم تقاریر جیسے ہی ختم ہوئیں تو کچھ مشتعل وکلاء نے ہائی کورٹ کی عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جس پر پولیس اہلکاروں نے انہیں روکا مگر وکلاء زبردستی اندر داخل ہوگئے۔

اس دوران تلاشی کے لیے لگائی گئی سکریننگ مشین گر گئی اور وکلاء نے عدالتی کمروں میں رکھے سامان کی توڑ پھوڑ کی۔ انہوں نے کمروں میں موجود افراد اور وکلاء کو باہر نکالا، ان کی اس دوران کچھ وکلاء سے جھڑپیں بھی ہوئیں اور نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ مشتعل وکلاء’ہائی کورٹ والو غیرت کرو‘، ’کورٹ کا بائیکاٹ کرو‘ کے نعرے لگاتے رہے۔

اس دوران اسلام آْباد سے اعجاز مہر کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں وکلاء تنظیموں کی اپیل پر لاہور میں وکیلوں پر تشدد کے خلاف پیر کو ایک گھنٹے تک عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا اور علامتی احتجاجی کیمپ بھی لگائے گئے۔

جلوس کی قیادت جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اور پاکستان بار کونسل کے نائب صدر علی احمد کرد کر رہے تھے۔

اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری سید محمد طیب نے بتایا کہ وکلاء پر پولیس کے بہیمانہ تشدد کے خلاف گیارہ سے بارہ بجے تک ضلعی عدالتوں کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سنیچر کو لاہور میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جبری رخصت پر بھیجنے کے خلاف وکلاء نے احتجاج کیا تھا جس پر پولیس نے لاہور ہائی کورٹ میں گھس کے جہاں ان پر لاٹھیاں برسائیں تھیں وہاں آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی تھی۔

اسلام آباد میں وکلاء نے اس موقع پر ایک مذمتی قرار داد بھی منظور کی جس میں وکلاء پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دریں اثنا معطل چیف جسٹس کے گھر کے باہر پولیس ہٹا لی گئی ہے اور ناکہ بھی ختم ہو چکا ہے۔ وزیر قانون وصی ظفر کے مطابق جسٹس افتخار محمد چودھری آزاد ہیں اور کوئی بھی شخص ان سے مل سکتا ہے۔

عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
انصاف کا ترازوتاریخ کیا کہتی ہے؟
پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ
چھٹے دن بھی احتجاج چھٹے دن بھی احتجاج
چیف جسٹس معطلی کے خلاف مظاہرے جاری
زباں بندی؟
وکلاء احتجاج کو’سنسر‘ کرنے کی مذمت
مشرف کی تصویر نذر آتشوکلاء کا احتجاج
مختلف شہروں میں وکلاء نے جلوس نکالے
احتجاجاسلام آباد میں مظاہرہ
لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے احتجاج کی تصاویر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد