وکلاء جسٹس افتخار سے مل سکتے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’معطل‘ چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات پر حکومت کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں اور اب وکلاء کے نمائندے معطل چیف جسٹس کی اجازت کے بعد ان سے مل سکتے ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے جسٹس افتخار محمد چوہدری کومعطل کیے جانے کے بعد انہیں سخت حفاظتی حصار میں رکھا گیا تھا اور کسی شخص کو جسٹس افتخار کے گھر کی طرف سے جانے کی اجازت نہ تھی۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس افتخار پر سے تمام پابندیاں اٹھانے کا حکم جاری کیا تھا لیکن کونسل کے حکم کے باجود چوبیس گھنٹے تک ججز کالونی کو جانے والے راستے پر پولیس اہلکار موجود رہے اور کسی کو جسٹس افتخار کے گھر کے قریب بھی جانے کی اجازت نہ تھی۔ البتہ پیر کو چیف جسٹس کے گھر جانے والے راستوں سے پولیس کو ہٹا لیا گیا اور اب کوئی بھی شخص جسٹس افتخار کے گھر کے بیرونی دورازے پر جا کر ملنے کی درخواست کر سکتا ہے۔ پیر کو بلوچستان ہاؤس کے سامنے سے بھی پولیس چوکی ہٹا لی گئی ہےاور کوئی بھی شخص بغیر کسی رکاوٹ کے جسٹس افتخار محمد چوہدری کی رہائش گاہ کے بیرونی دروازے تک پہنچ سکتا ہے۔ جسٹس افتخار کے گھر کے بیرونی دروازے پر پولیس اہلکار موجود ہیں اور وہ ملاقات کے خواہشمند لوگوں کا تعارفی کارڈ چیف جسٹس تک پہنچاتے ہیں اور اگر معطل چیف جسٹس ملنا چاہیں تو وہ ان کو اندر جانے دیتے ہیں۔ پیر کو جب اس نامہ نگار نے جسٹس افتخار سے ملاقات کی کوشش تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ جج ہیں اور صحافیوں سے ملاقات نہیں کرتے۔ چیف جسٹس افتخار نے اسلام آباد کے تین وکلاء سے بیس منٹ تک ملاقات کی۔ | اسی بارے میں سماعت ملتوی، مظاہرے ،گرفتاریاں16 March, 2007 | پاکستان لاہور، اسلام آباد: مظاہرے، جھڑپیں اورگرفتاریاں16 March, 2007 | پاکستان اسلام آباد کے راستے بند16 March, 2007 | پاکستان احتجاج، گرفتاریاں: صدارتی ریفرنس کی سماعت آج16 March, 2007 | پاکستان صحافی اور وکلاء پر تشدد کی مذمت17 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||