صحافی اور وکلاء پر تشدد کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے ہفتے کو لاہور میں وکلاء کنونشن کے موقع پر پولیس کے تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ موجود صورت حال کا بڑے غور سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اس بیان میں کہا گیا کہ ہفتے کو لاہور میں پولیس کی طرف سے طاقت کا استعمال غیرضروری اور نامناسب تھا۔ ہیومن رائٹس واچ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پولیس کو فوری احکامات جاری کرے کہ ان احتجاجی مظاہروں میں شریک وکلاء اور ان کے مظاہروں کی کوریج پر مامور صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کرے۔ تنظیم نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ نجی ٹی وی چینلوں ’آج‘ اور ’جیو‘ کے نمائندوں کو اسلام آباد اور لاہور میں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانے سے روکا گیا اور ان کے آلات کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کئی صحافیوں کے زخمی ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ لاہور میں ہفتے کو صحافیوں کے خلاف تشدد پر تنظیم کا کہنا تھا کہ یہ اقدام مجرمانہ اور بلا اشتعال تھا۔ بیان میں اس بات کا بھی خصوصی طور پر نوٹس لیا گیا کہ اسلام آباد میں جمعہ کو جیو ٹی وی کے دفتر پر پولیس کی توڑ پھوڑ کے دوسرے روز ہی لاہور میں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے ذرائع ابلاغ کو غیر سرکاری طور پر ملک بھر میں ہونے والے وکلاء کے احتجاجی مظاہروں کی خبروں کو دبانے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کو خود سے ان خبروں کو دبانے کے لیئے مجبور کرنے اور مظاہرین اور وکلاء کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر اس سلسلے کو بند کرنا چاہیے۔ | اسی بارے میں لاہور میں جھڑپیں، متعدد زخمی17 March, 2007 | پاکستان میرے خلاف سازش ہورہی: مشرف17 March, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار پر پابندیاں برقرار17 March, 2007 | پاکستان جیو پرحملہ کے ذمہ دار اہلکار معطل17 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||