BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 March, 2007, 07:45 GMT 12:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیو پرحملہ کے ذمہ دار اہلکار معطل
پرائیویٹ ٹی وی چینل جیو پر حملہ
پولیس جیو کے دفتر میں داخل ہو رہی ہے
حکومت نے جمعہ کوایک نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے دفاتر پر حملہ اور توڑ پھوڑ کرنے کے سلسلہ میں چودہ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔

اسلام آْباد پولیس کے سربراہ افتخار احمد چودھری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’جیو چینل کے واقعہ میں حکومت نے چودہ پولیس افسروں کو معطل کر کے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔‘

یہ فیصلہ صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے جیو کے دفتر والے واقعہ پر معذرت کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ صدر نے جمعہ کو ٹی وی چینل سے ٹیلیفون پر بات کی تھی اور اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کو فوری سزا دینے کی یقین دہانی اور نقصانات کے ازالے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا واقعہ ان کی حکومت کو ’سبوتاژ‘ کرنے کی کوشش ہے۔

جمعہ کو رات گئے حکومتی بیان میں کہا گیا کہ پنجاب پولیس کے ایک انسپکٹر خالد محمود اور تیرہ سپاہیوں کو معطل کیا گیا ہے اور ان کے خلاف انکوائری ہو گی۔

یہ انکوائری اسلام آباد کے ایڈیشنل ضلعی سیشن جج منظور احمد مرزا کریں گے۔

جمعہ کو اسلا آباد میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان پتھراؤ کے کئی واقعات ہوئے تھے جس دوران پولیس نے مظاہرین کو سپریم کورٹ کی عمارت اور دوسرے حساس مقامات سے دور رکھنے کے لیے لاٹھیوں، ربڑ کی گولیوں اور آنسوگیس استعمال کی تھی۔ مظاہرین صدر مشرف کے خلاف اور معطل کیے جانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں نعرہ بازی کر رہے تھے۔

پولیس کے مطابق لاہور اور اسلام آباد میں مجموعی طور پر تقریباً دو سو افراد کو جمعہ کے روز مظاہروں سے باز رکھنے کی غرض سے حراست میں لیا گیا تھا جن میں سیاستدان، وکلاء اور سیاسی کارکن شامل تھے۔

پاکستان میں وکلاء صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے گزشتہ ہفتے معطل چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجے جانے کے بعد سے ہر روز احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ جمعرات کو حکومت نے جیو چینل کو بحث مباحثے کا ایک پروگرام نشر نہ کرنے کا حکم بھی دیا تھا جس کے بعد چینل ایک دعا نشر کرتا رہا جس میں ملک میں انتشار پر افسوس کا اظہار کیا جاتا رہا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد