جیوپرحملہ، صدرمشرف کی معذرت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں جمعے کو ہونے والے پرتشدد واقعات سے ذرائع ابلاغ بھی محفوظ نہیں رہا اور یہاں ایک نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے دفاتر پر پولیس نے حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے ٹی وی چینل کو ایک ٹیلیفون میں اس واقع کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کو فوری سزا دینے کی یقین دہانی کرائی ہے اور نقصانات کے ازالے کا وعدہ کیا ہے۔ ادھر کراچی میں جیو نیوز کو ایک ٹیلیفون میں بم کی موجودگی کی اطلاع پر چینل کا دفتر خالی کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ حکومت نے اس چینل کو بحث مباچثے کا ایک پروگرام نشر نہ کرنے کے لیئے کل رات حکم دیا تھا۔ جس کے بعد یہ چینل کل رات سے ایک دعا نشر کر رہا ہے جس میں ملک میں انتشار پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں آج سہہ پہر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جن مقامات پر تصادم ہوا ان میں ایک نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے دفاتر کے قریب بلیو ایریا کا علاقہ بھی شامل تھا۔ جیو کے سٹاف نے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے بقول ٹی وی چینل ایسا کرنے سے اس لیے انکار کیا کہ وہ اسلام آباد کی صورتحال کو خراب بتا رہے ہیں۔ اس دوران چینل کے چند اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ پولیس نے چینل کے کارکنوں کو عمارت خالی کرنے کے لیئے کہا اور انکار پر آنسو گیس بھی چلائی۔ بعد میں عینی شاہدین کے مطابق وہاں تعینات پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے پولیس زندہ باد کے نعرہ بھی لگائے۔ جب پولیس اپنا کام کرچکی تو وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی دورانی بھی وہاں پہنچے اور جیو نیوز کو ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا۔ جیو نیوز کا کہنا ہے کہ حکومت نے کل رات اس کے بحث و مباچثے کے معروف پروگرام ’آج کامران خان کے ساتھ’ پر پابندی عائد کی ہے جس کی وجہ سے یہ پروگرام نشر نہیں ہوسکا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||