BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 March, 2007, 10:39 GMT 15:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور میں جھڑپیں، متعدد زخمی
چیف جسٹس افتخار کی معطلی کے خلاف کئی دنوں سے مظاہرے جاری ہیں

لاہور میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں وکلاء کے احتجاج کے موقع پر پولیس کے پتھراؤ، لاٹھی چارج اور آنسو گیس پھینکنے سے متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار عدنان عادل کے مطابق سنیچر کو لاہور ہائی کورٹ بار اور دیگر وکلاء تنظیموں کے زیر اہتمام وکلاء کا ایک کنونشن ہورہا تھا کہ کچھ وکلاء نے ہائی کورٹ سے باہر جلوس کی صورت میں نکلنے کی کوشش کی تو پولیس نے ان پر دھاوا بول دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے باہر صبح سے زرہ پہنے اور لاٹھیوں سے مسلح پولیس کی بڑی نفری موجود تھی۔ آئی جی پنجاب احمد نسیم اور لاہور پولیس کے چیف ملک اقبال نے خود اس جگہ کا معائنہ کیا۔ باہر سڑک پر پولیس کی بکتر بند گاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں۔

پولیس نے وکلاء کی ایک ٹولی کو مال روڈ پر جانےسے روکنے کے لیے عدالت عالیہ کے احاطے کے اندر دھکیلا اور گیٹ بند کرنے کی کوشش کی جس پر وکیلوں اور پولیس میں تصادم شروع ہوگیا جو دو گھنٹے تک جاری رہا۔

وکلاء اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے
اس دوران میں پولیس وکلاء پر مسلسل آنسو گیس کی فائرنگ کرتی رہی اور عدالت عالیہ کی عمارت میں داخل ہوکر ان پر لاٹھیاں برساتی اور پتھراؤ کرتی رہی۔

ہائی کورٹ کی عقبی جانب ٹرنر روڈ پر پولیس نے وکلاء کے دفاتر توڑ دیے اور چھتوں پر چڑھ کر لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں پتھراؤ کیا۔ پولیس نے فٹ پاتھوں کی اینٹیں اکھاڑ کر وکلاء پر پتھراؤ کےلیے استعمال کیں۔

ٹرنر روڈ پر پولیس نے ٹی وی چینلوں اور اخباروں کے کیمرہ مینوں کو آنسو گیس کی شیلنگ کی تصاویر کھینچنے سے منع کیا اور ان کا حکم نہ ماننے پر ان کو لاٹھیوں سے مارا۔

پولیس کے تشدد سے چھ صحافی اور چودہ پندرہ وکلاء اور عام راہگیر زخمی ہوگئے۔ پولیس کی لاٹھیاں لگنے سے کچھ لوگوں کے سر پھٹ گئے اور ٹانگوں پر شدید چوٹیں آئیں۔

اطلاعات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا وکلاء نے بائیکاٹ کیا جس سے مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی۔

سہ پہر کو اسلام آباد میں قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے لاہور پولیس کو ہائی کورٹ کے احاطے سے باہر جانے کا حکم جاری کیا تو پولیس کی کارروائی میں کمی آئی اور وکلاء ہائی کورٹ سے باہر نکل کر مال روڈ پر ایک گھنٹہ تک سڑک پر بیٹھے رہے۔

سندھ کے شہروں میں مظاہرے
 عوامی تحریک کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد کی معطلی پر سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ حیدرآباد، نوشہروفیروز، گڑھی یاسین، شھدادکوٹ اور بھریا میں صحافیوں نے جیو نیوز کے دفتر پر حملے کے خلاف احتجاج مظاہرے کیے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے اکیس مارچ کو پورے ملک میں پولیس کاروائی کے خلاف ہڑتال کی کال دی ہے۔

سندھ
کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی کے پانچوں اضلاع میں وکلاء نے مکمل طور پر اور ہائی کورٹ میں ایک گھنٹہ تک عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے پیشی پر لائے گئے تمام قیدیوں کو بغیر سماعت کے واپس کردیا گیا۔

کراچی بار اور ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن میں وکلاء نے علامتی طور پر بھوک ہڑتال کی اور مظاہرہ کیا گیا۔ کراچی بار نے جوڈیشل کونسل میں حکومت کی پیروی کرنے پر ایڈووکیٹ راجا قریشی کی رکنیت معطل کردی ہے۔

حیدرآباد ، سکھر، لاڑکانہ اور دیگر اضلاع کی عدالتوں کا بھی وکلاء نے بائیکاٹ کیا ہے۔

عوامی تحریک کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد کی معطلی پر سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جبکہ حیدرآباد، نوشہروفیروز، گڑھی یاسین، شھدادکوٹ اور بھریا میں صحافیوں نے جیو نیوز کے دفتر پر حملے کے خلاف احتجاج مظاہرے کیے ہیں۔

سرحد میں مظاہرے
پشاور سے ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ پشاور میں صحافیوں کی تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیراہتمام نجی ٹیلی ویژن جیو نیوز پر پنجاب پولیس کی طرف سے حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا۔

معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ’عام آدمی کا جج‘ تصور کیا جاتا تھا
مظاہرین کی قیادت خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر جان افضل اور پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض کر رہے تھے جبکہ سینئر صحافیوں افتخار علی اور پشاور میں جیو نیوز کے بیورو چیف عبد اللہ جان نے بھی مظاہرے میں شرکت کی۔

مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر آزادئ صحافت پر ’قدغن نامنظور‘ اور پنجاب پولیس کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے پولیس کی سخت سکیورٹی میں پشاور پریس کلب سے گورنر ہاؤس تک مارچ کیا۔

بلند آواز میں نعرے لگاتے ہوئے صحافی جب شیر شاہ سوری روڈ کے قریب پہنچے تو پولیس نے گورنر ہاؤس کی طرف جانے والے سڑک کو بلاک کر کے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی تاہم صحافی سخت انتظامات کے باوجود گورنر ہاؤس پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

اس موقع پر صحافیوں نے حکومت اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرہ بازی بھی کی اور مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کے ایچ یو جے کے صدر جان افضل، ایم ریاض اور افتخار علی نے جیو نیوز کے دفتر پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ حملہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے دنیا بھر میں پاکستان کا وقار مجروح ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کے اصل ملزمان کو گرفتار کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ورنہ اخبارنویسوں کا احتجاج جاری رہے گا۔

بلوچستان میں عدالتوں کا بائیکاٹ
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں چیف جسٹس کی معطلی، وکلاء اور صحافیوں پر تشدد کے خلاف وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے اور احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے ضلع کچہری سے ریلی کی قیادت کی اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ اس موقع پر وکلاء نے سخت نعرہ بازی کی ہے ۔

ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح صوبہ بھر میں وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور علامتی بھوک ہڑتال بھی کی گئی ہے جبکہ وکلاء نے میزان چوک پر کچھ دیر کے لیے دھرنا بھی دیا ہے۔

بلوچستان بار ایسوسی ایشن نے لاہور میں وکلاء پر پولیس تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بلوچ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام بھی وکلاء نے آج مظاہرہ کیا ہے۔ بلوچ بار ایسوسی ایشن کے صدر صادق رئیسانی نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے خلاف ان کی تحریک جاری رہے گی۔

جمعہ کے روز اسلام آباد میں وکلاء اور صحافیوں پر پولیس تشدد کے خلاف کوئٹہ اور صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی صحافیوں نے بھی احتجاج کیا ہے۔

پہلا تحریری بیان
جسٹس افتخار جوڈیشل کونسل کے سامنے
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
چھٹے دن بھی احتجاج چھٹے دن بھی احتجاج
چیف جسٹس معطلی کے خلاف مظاہرے جاری
 جسٹس افتخار محمد چودھریجسٹس افتخار معاملہ
حکومتی کامیابی سرکاری افسران کے حلف ناموں پر
شریف الدین کا انکار
شریف الدین نے سرکارکی وکالت سےانکارکردیا ہے۔
جیو پر حملہٹی وی چینل پر حملہ
پولیس حملہ کے بعد جیو کراچی میں بم کی افواہ
اسلام آباد’سرکار کی بس میں‘
’یہ ناکہ بیس گریڈ والوں کے لیے ہے‘
اسی بارے میں
اسلام آباد کے راستے بند
16 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد