BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 March, 2007, 23:58 GMT 04:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جمہوریت کے لیے مشترکہ جدوجہد

محمود خان اچکزئی(فائل فوٹو)
’فوج کی مداخلت کی وجہ سے 1973 کا آئین اپنی اصلی حالت میں نہیں رہا ‘
پاکستان میں قوم پرستوں کے اتحاد’پونم‘ نے ملک کو موجودہ سیاسی اور آئینی بحران سے نکالنے اور بحالی جمہوریت کے لیے اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں سے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔

اس امر کا اعلان پونم کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے سنیچر کو بلوچستان کے خضداروڈھ میں پونم کے دو روزہ اجلاس کے بعد کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام پارٹیاں مل کر پاکستان میں ایک ایسی جمہوری نظام لانے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر متحد ھو جائیں کہ جس سے ملک سے ہمیشہ کے لیے مارشل لاء کا خاتمہ ہو سکے۔

اجلاس میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سرپرست اعلٰی سردار عطاء اللہ مینگل ، نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ ، سندھ نیشنل فرنٹ کے سربراہ ممتاز بھٹو، سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ قادرمگسی، سرائیکی نیشنل پارٹی کے مجید کانجو اور جمعیت علماء سندھ کے مولانا عبیداللہ سندھی نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر محمود خان اچکزئی نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فوج کی بار بارمداخلت کی وجہ سے 1973 کا آئین اپنی اصلی حالت میں نہیں رہا ہے جبکہ بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں اور سرائیکیوں کو تو 1973 کے آئین پر پہلے سے ہی اعتراضات تھے۔

اجلاس میں تمام قوم پرست جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے

پشتو نخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ جنرل پرویزمشرف سے تو پاکستان کی عدلیہ بھی محفوظ نہیں رہی اور سپریم کورٹ کے سربراہ کے ہٹائے جانے سے پاکستان کی قومی یکجہتی کوخطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اس وقت جنرل پرویزمشرف نے فوج اور عوام کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے جس سے ایک خطرناک صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک بلوچستان پر پانچویں بار فوج کشی ہوئی ہے جبکہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ بلوچستا ن کو ترقی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی ترقی ہے جو بلوچستان کے عوام کو بندوق کی گولیوں کے علاوہ گوادر اور کوہلو میں چھاؤنیوں کی صورت میں دی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر بلوچ کے مطابق اس ترقی کا بنیادی مقصد بلوچ عوام کو نہ صرف اقلیت میں تبدیل کرنا بلکہ ان کے 770 کلومیٹر لمبے ساحل،گیس، تیل اور دیگرمعدنیات پر قبضہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پونم نے لندن میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں بھرپور شرکت کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اے پی سی کے پلیٹ فارم سے بھی بلوچستان کا مسئلہ بھرپور اندازمیں اٹھایا جا سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد