بلوچستان پر سیمینار میں گلے شکوے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں ہونے والے ایک سیمینار میں سندھ اور بلوچستان کے قوم پرست رہنماؤں نے ایک دوسرے سے ضرورت کے وقت ساتھ نہیں دینے پر گلے شکوے کیے ہیں۔ کراچی میں منگل کو بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے موضوع پر ہونے والے ایک سیمینار میں جہاں بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن رہنما کچکول علی اور سندھ کے قوم پرست رہنما رسول بخش پلیجو میں تنقیدی جملوں کا تبادلہ ہوا، وہاں سپریم کورٹ کے سابق جج ناصر اسلم زاھد اور بلوچستان کے سابق گورنر جنرل عبدالقادر بلوچ میں بھی مقالمہ ہوا۔ نیشنل پارٹی کے رہنما کچکول علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صرف مذمتی قراردادوں سے کچھ نہیں ہوگا، سندھ اور سرحد لوگوں کو سرگرم کریں اور عملی جدوجہد کریں۔ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’پشتون خواہ بلکل سویا ہوا ہے، وہ وہاں ملاؤں کی لڑائی میں شریک ہے جبکہ خود کو سیکیولراور لبرل کہتے ہیں‘۔ کچکول علی کا کہنا تھا کہ سندھ اور پشاور ان پر نہ روئیں، ’خدا کے واسطے عمل میں شامل ہوجائیں، اگر وہ بندوق نہیں اٹھا سکتے تو کم سے کم لوگوں کو سرگرم تو کریں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچوں کی جدوجہد کی وجہ سے صوبائی خودمختاری کے لیے کمیٹی بنے گی۔ ’پھر سندھ اور سرحد کے قوم پرست آجائیں گے کہ ہمارے صوبے کو یہ دو وہ دو، مگر مرنے کی باری میں یہ کہاں ہیں۔‘ کچکول کے مطابق یہ مشترکہ عمل ہے اور اس میں سب شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ بلوچوں نے ابتدا کی ہے مگر اس کا ثمر سب قومیتوں کے لیے ہے۔ عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو نے کچکول علی کو ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ایم آر ڈی تحریک میں سندھ کے لوگ لڑ رہے تھے اور سڑکوں پر مر رہے تھے تو یہ (بلوچی) کیا کر رہے تھے۔ ’ان دنوں ان کے یہاں ایک بھی مظاہرہ نہیں ہوا۔‘
ان کے مطابق ’اللہ کے فضل سے سازش کرنے میں کوئی صوبہ پیچھے نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قوم پرستوں کے اتحاد پونم میں سب اکٹھے تھے۔ انہوں نے کچکول علی کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے پانی کے متعلق ایک لفظ بھی بولا۔ ’یہاں لوگوں کو لاش دفن کرنے کے لیے پانی نہیں مل رہا تھا۔‘ رسول بخش پلیجو کا کہنا تھا کہ اگر ایجنسیوں کے کہنے پر پونم کو تارپیڈو نہ کیا جاتا تو سب متحد ہوتے اور حقیقی جماعتوں کو اس میں رہنے دیا جاتا تو آج نقشہ دوسرا ہوتا۔ سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ناصر اسلم زاہد کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے فوج یہاں اقتدار پر قابض ہوجاتی ہے، سپریم کورٹ یہ فیصلہ نہیں دیتی کہ یہ غیر آئینی ہے بلکہ کہتی ہے کہ یہ اقدام آئین سے باہر ہے کیونکہ غیر آئینی قدم کی سزا پھانسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ پرویز مشرف بندوق کے زور پر حل نہیں کرسکتے۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس کا سیاسی حل نکالا جائے۔ ان کے مطابق یہ اگر آج کہیں کہ بات کرنے کو تیار ہیں اور تمام جماعتوں کو دعوت دیتے ہیں تو کچھ لوگ ضرور آگے آئیں گے۔ بلوچستان کے سابق گورنر عبدالقادر بلوچ نے جسٹس ناصر اسلم زاہد کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ فو ج کی یہ کبھی بھی تربیت نہیں ہے کہ وہ سول معاملات کو چلائے اور حکومت کرے۔ انہوں نے کہا ’چار مرتبہ فوج نے اقتدار سنبھالا مگر ان کو ہر مرتبہ آئینی تشریح کس نے فراہم کی۔ ان جج صاحبان نے‘۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدان اور عدلیہ کی ملی بھگت سے فوج آتی ہے۔ ’جب کرسی خالی ہوتی ہے تو پھر مزے تو وہ ہی لے گا جو خالی کروائے گا، کسی اور کو تو کرسی نہیں دے گا۔‘ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے مطالبہ کیا بلوچستان میں فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی حکومت مدد نہیں کرسکتی تو این جی اوز کو وہاں تک رسائی کی اجازت دی جائے۔ |
اسی بارے میں ہربلوچ بغاوت کی راکھ سے مزاحمت پیدا ہوئی22 February, 2007 | پاکستان بلوچوں پرکیابیتی، فوجی آپریشن: 2 09 February, 2007 | پاکستان پاکستان: ’انصاف کے دروازے بند‘08 February, 2007 | پاکستان ’مشرف حکومت کوہٹانا ضروری ہے‘19 November, 2006 | پاکستان دو مزید ’لاپتہ‘ قوم پرست رہنما ظاہر04 November, 2006 | پاکستان حقوق کی لڑائی کے لیئے بلوچ جرگہ23 September, 2006 | پاکستان ’جرنیلی ٹولہ 71 کی تاریخ دہرا رہا ہے‘10 September, 2006 | پاکستان ’غار میں اکبر بگٹی کی لاش دکھائی دی‘31 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||