BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہربلوچ بغاوت کی راکھ سے مزاحمت پیدا ہوئی

فارن پالیسی سنٹر کے مطابق بلوچ فوج نے 1758 میں افغانوں کے ساتھ ایک زبردست جنگ لڑی اور مزید اطاعت گزاری سے انکار کر دیا
ریاست قلات کے اپریل انیس سو اڑتالیس میں نومولود پاکستان سے جبری الحاق کے پیچھے اس وقت کے برطانوی مفادات کارفرما تھے ، اس امر کا انکشاف موجودہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی سر پرستی میں کام کرنے والے ایک تھنک ٹینک ادارے ’فارن پالیسی سنٹر‘ نے بلوچستان پر جاری کی گئی اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر انیس سو سینتالیس میں اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ لارڈ لسٹوویل نے برصغیر میں تاج برطانیہ کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن پر واضح کیا کہ اپنے محلِ وقوع کی وجہ سے آزاد حیثیت میں ریاست قلات خطرناک ہو سکتی ہے۔

نتیجتاً پاکستان میں برطانوی سفیر کو کہا گیا کہ وہ پوری کوشش کریں کہ پاکستان ایسا کوئی معاہدہ نہ کرے جس کے تحت قلات ایک علیحدہ ریاست کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔

بلوچ سرداروں نے قلات کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو عالمی عدالت انصاف میں چیلنج کرنے کا اعلان بھی کیا تھا

فارن پالیسی سنٹر نے ’بلوچیز آف پاکستان: آن دا مارجنز آف ہسٹری‘ کے عنوان سے جاری کی گئی رپورٹ میں بیان کیا ہے کہ برطانیہ بلوچستان کو ایران میں وزیر اعظم مصدق کی قوم پرست حکومت کے خلاف استعمال کرنا چاہتا تھا، جس نے اقتدار سنبھالتے ہی اینگلو ایرانین آئل کمپنی کو قومی تحویل میں لے لیا تھا۔ برطانیہ نے بعد میں مغربی بلوچستان میں اپنے اڈے قائم کیے اور انہیں ایران کے خلاف استعمال کیا۔

بلوچستان میں برطانیہ کی دلچسپی کا آغاز انیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی میں اس وقت ہوا جب اسے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ روس اپنی سرحدوں کو جنوب کی طرف بڑھانا چاہتا ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر اس وقت کی برطانوی حکمت عملی کے تحت، جسے ’گریٹ گیم‘ کا نام دیا گیا، بلوچستان کو طاقت کی عالمی رسہ کشی میں پھنسا دیا گیا۔

برطانیہ نے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے انیسویں صدی کی آخری دو سے تین دہائیوں کے دوران بلوچستان کے کچھ حصے ایران اور کچھ افغانستان کو ’تحفتاً‘ دے دیئے اور یوں اسے تین مختلف ریاستوں میں منقسم کر دیا۔

بلوچستان کی سرحدوں کا از سرِ نو تعین اٹھارہ سو اکہتر میں میجر جنرل فریڈرک گولڈ سمتھ کی سربراہی میں بننے والے ’پرشو بلوچ باؤنڈری کمیشن‘ اور اٹھارہ سو چھیانوے میں سر ہنری میکماہون کی قیادت میں قائم ہونے والے ’اینگلو پرشن جوائنٹ باؤنڈری کمیشن‘ کے تحت کیا گیا۔

نواب بگٹی کی ہلاکت کے بعد میر سلیمان داؤد احمد زئی نے قلات میں بلوچ سرداروں کا جرگہ بلایا تھا

بلوچوں نے اگرچہ اس تقسیم کو قبول نہیں کیا تھا لیکن برطانیہ ایران کو روس سے دور رکھنے کے لیے اسے کسی نہ کسی طرح خوش کرنا چاہتا تھا۔ برطانوی تقسیم کے بعد بلوچستان کے علاقے سیستان اور مغربی مکران ایران کا حصہ بن گئے جبکہ سیستان سے ملحقہ علاقوں اور ریگستان کو افغانستان کے حوالے کر دیا گیا۔

اسی طرح ڈیرہ جات، سبی اور جیکب آباد کو برٹش انڈیا میں شامل کر دیا گیا۔ تاہم باقیماندہ بلوچستان پر خان آف قلات کی حکمرانی برقرار رکھی گئی۔ اگرچہ بعد میں خان کے زیر اثر لسبیلہ، مکران اور خاران کے رئیسوں سے بھی براہ راست روابط قائم کر لیے۔

خود مختاری اور محکومیت

بلوچوں کے قمبرانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے میر احمد خان نے سولہ سو ساٹھ میں ریاست قلات اور غالباً انہیں سے منسوب احمد زئی حکمران خاندان کی بنیاد رکھی۔ اٹھارہ سو پچاس میں انگریزی غلبہ سے پہلے قلات کے حکمراں کبھی ایران، کبھی افغانستان اور کبھی دلی کے بادشاہوں کے مطیع رہے۔

تاہم خان آف قلات میر نصیر خان اول کے تریپن سالہ دور اقتدار میں (سترہ سو اکتالیس تا سترہ سو چورانوے) میں افغان حکمراں احمد شاہ درانی کی گیارہ سال اطاعت کرنے کے بعد، فارن پالیسی سنٹر کی رپورٹ کے مطابق، سترہ سو اٹھاون میں بلوچ فوج نے افغانوں کے ساتھ ایک زبردست جنگ لڑی اور مزید اطاعت گزاری سے انکار کر دیا۔

نصیر خان اوّل کے عہد کو بلوچ مؤرخ بلوچی تاریخ کا سنہری باب قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف علاقے کا نام بلوچستان رکھا، بلکہ ایک خود مختار حکمران کے طور پر چھتیس سال تک ریاستی امور بھی چلائے۔

تاہم نصیر خان اوّل کے بعد آنے والے احمد زئی حکمران اس خود مختاری کو برقرار نہ رکھ سکے اور جب برطانوی حکمران برصغیر چھوڑ رہے تھے تو ریاست قلات اگرچہ وجود رکھتی تھی، لیکن وہ اپنے شاندار ماضی کا محض ایک سایہ تھی۔

محمد علی جناح کے دو روپ

خان آف قلات احمد یار خان نےتقسیم ہند کے وقت موقف اختیار کیا کہ برطانوی راج کے بعد بننے والی حکومتوں کو صرف ان ریاستوں پر اختیار حاصل ہوگا جن کے معاہدے برٹش انڈین گورنمنٹ کے ساتھ ہیں، جبکہ قلات سمیت وہ ریاستیں جن کے معاہدے براہ راست ’وائٹ ہال‘ یعنی برطانوی حکومت سے ہیں، وہ اس سے مستثنیٰ ہونگی۔وائٹ ہال سے براہ راست تعلق رکھنے والی دوسری ریاستوں میں نیپال اور بھوٹان شامل تھے۔

محمد علی جناح ریاست قلات کے تنخواہ دار قانونی مشیر تھے

فارن پالیسی سنٹر کی رپورٹ کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ ریاست قلات کی خود مختاری کا مقدمہ مسلم لیگی رہنماء محمد علی جناح نے تیار کیا تھا، جو ریاست کے تنخواہ دار قانونی مشیر تھے۔لیکن اقتدار میں آتے ہی وہ ایک مختلف شخصیت کے طور پر سامنے آئے، جس کا طرز حکومت آبادیاتی حکمرانوں سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھا۔مارچ انیس سو اڑتالیس میں خاران، لسبیلہ اور مکران کو پاکستان میں ضم اور اپریل میں فوج کشی کر کے خان آف قلات کو پاکستان کے ساتھ الحاق پر مجبور کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق برصغیر میں برطانوی دفاعی حکمت عملی وضع کرنے کے ذمہ دار میجر جنرل آر سی منی نے انیس سو چوالیس میں دوسری عالمی جنگ کے بعد کے متوقع منظر نامے کے حوالے سے تجویز کیا تھا کہ قلات چونکہ ایک علیحدہ ریاست ہے تو انتقالِ اقتدار (برصغیر میں) کی صورت میں اسے خلیج فارس کے دفاع کے لیے ایک فوجی اڈے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔لیکن تقسیم کے وقت برطانیہ نے محسوس کیا کمزور بلوچستان کی بجائے پاکستان میں فوجی اڈے قائم کرنا زیادہ سودمند ہوگا، جو برطانیہ کے لیے یہ خدمت سرانجام دینے کے لیے بے تاب بھی تھا۔

قومی تحریک اور ناکام بغاوتیں

فارن پالیسی سنٹر نے اپنی رپورٹ میں ریاست قلات کے پاکستان سے الحاق کے بعد سے بلوچستان میں اب تک ہونے والی چار مسلح بغاوتوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کے پیمانے اورجغرافیائی پھیلاؤ کے حوالے سے تو یہ ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ان کے پیچھے کارفرما محرکات، مطالبات اور مقاصد ہمیشہ یکساں ہی رہے ہیں۔

بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ہر حوالے سے پاکستان کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں انتہائی غربت میں مبتلاء آبادی کا تناسب اٹھائیس فیصد، دیہی سندھ میں اڑتیس فیصد، سرحد میں انتیس فیصد جبکہ بلوچستان میں اڑتالیس فیصد ہے۔ بلوچستان پاکستانی خزانے میں صرف قدرتی گیس کی مد میں اوسطاً ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر سالانہ حصہ ڈالتا ہے، لیکن وفاق کی طرف سے اسے صرف گیارہ کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر مالیت کے سالانہ وسائل ملتے ہیں۔

بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ہر حوالے سے پاکستان کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے۔

وفاق کی سطح پر معاشی و سماجی ناہمواری، اعلیٰ سرکاری ملازمتوں میں نہ ہونے کے برابر نمائندگی، صوبائی اختیارات میں مسلسل کمی، ترقیاتی کاموں کو نو آبادیاتی طریقے سے ’مسلط‘ کرنے کے طرز عمل اور فوجی چھاؤنیوں کے قیام نے بلوچستان میں بیگانگی اور احساس محرومی کو بڑھایا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچ مزاحمت کو اگرچہ ہر دفعہ فوجی آہنی ہاتھ سے کچلا جاتا رہا ہے لیکن ہر بغاوت کی راکھ سے مزاحمت کا ایک نیا سلسلہ بھی جنم لیتا رہا ہے۔قلات کے آخری حکمران احمد یار خان کے بھائی پرنس عبدالکریم کی گوریلا جدوجہد اور سولہ برس تک پاکستانی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتوں اور پھر نوروز خان زہری کی ون یونٹ کے خلاف بغاوت، ان کے بیٹوں کو حیدرآباد اور سکھر میں پھانسی پر لٹکایا جانا اور پھر خود ان کی کوہلو جیل میں صدمے سے وفات جیسے واقعات کے باوجود بھٹو اور اب جنرل مشرف کے دور میں بلوچ مزاحمت کا سر اٹھانا، اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان کی قوم پرست تحریک کو آہنی طرز عمل سے دبایا نہیں جا سکتا۔

کمزوریاں اور مستقبل

قبائلی تنازعات، لسانی مسائل (بلوچی و براہوی) اور قبائلی سرداروں میں حکومت پاکستان سےسیاسی و معاشی مفادات حاصل کرنے کا رحجان، خصوصاً نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد، وہ عوامل ہیں جو بلوچ ’تحریک آزادی‘ کی راہ میں بڑی اندرونی رکاوٹیں ہیں۔افغانستان میں جاری امریکی کارروائی کے نتیجے میں شمالی بلوچستان میں آباد پشتونوں میں زور پکڑتا ہوا مذہبی رحجان اور اس کے باقی عوام پر اثرات بھی بلوچ قوم پرست تحریک کو متاثر کر رہے ہیں۔

فارن پالیسی سنٹر کی رپورٹ کے مطابق بلوچ قوم پرستوں میں پشتون قوم پرستوں کے ساتھ سیاسی گٹھ جوڑ بڑھانے کے رحجان اور اسی حوالے سے سیاسی اتحاد ’پونم‘ میں شمولیت سے بھی بلوچ علیحدگی پسند تحریک کو نقصان پہنچا ہے۔

سیاسی اتحاد ’پونم‘ میں شمولیت سے بھی بلوچ علیحدگی پسند تحریک کمزور ہوئی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ مسلح جدوجہد بلوچوں کےگوادر، کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے حوالے سے تحفظات پر مشرف حکومت کی غیر حساسیت کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔’ایک رائے یہ بھی ہے کہ پاکستانی فوج جان بوجھ کر بلوچوں کو اکسا رہی ہے تا کہ فاٹا میں آپریشن کے لیے امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ جدید ہتھیاروں کو بروئے کار لاتے ہوئے بلوچستان میں بغاوت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے‘۔

رپورٹ کے مطابق مستقبل قریب میں بیرونی مدد اور رہنمائی کے بغیر ایک منظم بلوچ مزاحمتی تحریک کا تصور محال ہے اور اسے زندہ رکھنے کے لیے مثالی قیادت، طویل منصوبہ بندی اور وسائل درکار ہونگے۔

رپورٹ کے ابتدائیہ میں کہا گیا ہے کہ فارن پالیسی سنٹر کی کوشش ہے کہ ایسے تنازعات ہر بحث کا آغاز کیا جائے جو ابھی تک دنیا کی توجہ حاصل نہیں کر سکے۔ ’بلوچ عوام کو برطانوی حکمرانوں، جدید انڈیا (پاک و ہند) کے بانیوں اور پاکستانی حکومتوں نے مایوس کیا ہے‘۔

رپورٹ پڑھنے کے بعد جو تشنگی رہ جاتی ہے وہ ہے طاقت کے موجودہ عالمی کھیل میں سرزمینِ بلوچستان کی اہمیت پر تفصیلی بحث کا نہ ہونا، اگرچہ ایک جگہ سرسری طور پر کہا گیا ہے کہ انیس سو انچاس کی ایران میں مصدق حکومت کی جگہ احمدی نژاد اور برطانیہ کی بجائے امریکہ کو رکھ کر دیکھا جائے تو ماضی اور حال میں حیران کن مماثلت نظر آتی ہے۔

میر سلیمان داؤد احمد زئیسرداروں کا فورم
بلوچوں کے حقوق کی لڑائی قلات کے جرگے میں
تاریخی پس منظر
بلوچستان کو پہلا گھاؤ سن سینتالیس میں لگا
عطاللہ مینگلہم تھک گئے: مینگل
’مشرف کے ہوتے ہوئے مفاہمت کا امکان نہیں‘
لیجنڈری موت
اکبر بگٹی: بھٹو کے بعد لیجنڈری موت
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد