کوئٹہ میں بم دھماکہ، اٹھارہ زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ کے بارونق علاقے پرنس روڈ پر جنکشن چوک کے قریب دھماکے سے کم سے کم اٹھارہ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے تیرہ کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ رینج عبدالقادر تیبو نے بتایا ہے کہ یہ دھماکہ سائیکل میں نصب دھماکہ خیز مواد سے ہوا ہے اور سائیکل کو ایک ایسے ہوٹل کے قریب کھڑا گیا تھا جہاں حلوہ پوری خریدنے والے لوگوں کا رش ہوتا ہے۔ موقع پر موجود لوگوں نے بتایا ہے کہ ایک سائیکل پر کچھ سامان رکھا ہوا تھا اور ہوٹل کے اہلکاروں کو اس پر شک گزرا۔ سائیکل کو ہوٹل سے دور کھڑی کرکے پولیس کو اطلاع دی گئی لیکن پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی دھماکہ ہوگیا۔ دکانداروں نے کہا ہے کہ ان کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے اور حکومت ان کو تحفظ فراہم کرے۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ سائیکل کے قریب کھڑی ایک گاڑی میں سوار خاتون اور بچے زیادہ زخمی ہوئے ہیں باقی لوگوں کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ غلام قادر تیبو نے کہا کہ دھماکہ دہشت گردی کی ہی واردات ہے لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کا نشانہ کون تھا کیونکہ اتوار کے روز اس ہوٹل پر ناشتہ خریدنے والوں میں ہر علاقے کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے ذریعے وہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو بلوچستان میں کشیدگی میں اضافہ چاہتے ہیں اور صوبے میں جاری حالات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ سول ہسپتال کوئٹہ میں موجود ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ اٹھارہ زخمی ہسپتال لائے گئے تھے جن میں سے تیرہ کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا جبکہ پانچ کو علاج کے لیئے ہسپتال میں داخل کیاگیا ہے۔ یاد رہے دو روز پہلے بارکھان کے علاقے رکھنی میں دھماکے سے چھ افراد ہلاک اور سترہ زخمی ہوگئے تھے۔ کوئٹہ میں پہلے بھی سائیکل میں نصب بموں کے دھماکے ہو چکے ہیں۔ کوئٹہ کے میزان چوک پر دسمبر دو ہزار چار میں فوجی ٹرک کے قریب دھماکے سے گیارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں فوجی شامل تھے۔ اس کے علاوہ سریاب روڈ پر ایک ہوٹل کے قریب اس سال جون میں دھماکہ ہوا تھا جس میں کم سے کم تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد بھی بلوچستان میں دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کوہلو کے علاقے کاہان سے گزشتہ رات یہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ سکیورٹی فورسز نے بعض مقامات پر حملے کیئے ہیں لیکن نقصانات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ سرکاری سطح پر اس واقعے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ادھر ڈیرہ مراد جمالی میں متحدہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے قائدین نے جلسہ عام میں کہا ہے کہ صوبے میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے۔ اس احتجاجی جلسے سے اتحاد برائے بحالی جمہوریت چار جماعتی بلوچ اتحاد اپنے آپ کو محکوم کہلوانے والی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد اور عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین نے خطاب کیا ہے۔ | اسی بارے میں احتجاج پر متعدد گرفتاریاں05 September, 2006 | پاکستان مینگل استعفیٰ پیش نہ کرسکے05 September, 2006 | پاکستان کارروائی جاری رہیگی: آفتاب05 September, 2006 | پاکستان ’بگٹیوں کو باہر سے اسلحہ ملتا تھا‘04 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||