’جرنیلی ٹولہ 71 کی تاریخ دہرا رہا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مینار پاکستان لاہور کی گراؤنڈ میں اپوزیشن جماعتوں کے حکومت مخالف بلوچستان کے عوام سے اظہار یک جہتی کی گئی ہے۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنی ٹیلی فونک خطاب میں کہا کہ وہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ جئیں گے اور ان کے ساتھ مریں گے۔ اس جلسہ کا اہتمام اتحاد برائے بحالی جمہوریت نے کیا تھا جبکہ اس میں اپوزیشن کے دوسرے بڑے اتحاد مجلس عمل، قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم اور چند بلوچ رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ مینار پاکستان کی گراؤنڈ کو پیپلز پارٹی مسلم لیگ نواز کے جھنڈوں بڑے بینروں اور بے نظیر، نواز شریف اور شہباز شریف سمیت اپوزیشن کےدیگر رہنماؤں کی بڑی بڑی تصاویر سے سجایا گیا تھا اور جلوس کے شرکاء نعرے لگا رہے تھے ’گو مشرف گو‘،’قاتل قاتل مشرف قاتل‘،’فوج بیرکوں میں واپس جائے‘، ’وزیر اعظم بے نظیر‘، ’وزیر اعظم نواز شریف‘۔ ایک بینر پر لکھا تھا کہ’ اکبر بگٹی نے پاکستان بنانے میں بانی پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔‘ مقررین نے نواب اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت پر فوج اور حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس خدشہ کا اظہارکیا کہ فوج کے اس طرح کے اقدامات سے ملک ٹوٹ سکتا ہے۔ بعض مقررین نے نواب اکبر بگٹی کو پاکستان کی فیڈریشن کا حامی بتایا اور کہا کہ انہوں نے کبھی پاکستان کے خلاف بات نہیں کی تھی۔ ا
میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام حق پر ہیں اور وہ ان کے ساتھ ہیں۔انہوں نے اکبر بگٹی کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کو گہرا زخم لگا ہے اور ان کے بقول چند لمحوں میں لگنے والے زخم کو بھرنے میں کئی برس لگ جاتے ہیں اور قوموں کو لگنے والے زخم کی صدیوں میں نہیں بھر پاتے۔‘ انہوں نے بلوچستان کی حالیہ صورتحال کے حوالے سے کہا کہ ’جرنیلی ٹولہ انیس سو اکہتر کی تاریخ دہرا رہا ہے جب مشرقی پاکستان الگ ہوگیا تھا انہوں نے کہا کہ جرنیلی ٹولہ کو اب ہوش کے ناخن لینے چاہیے اور ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں دشمنوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے بہترہے کہ وہ اپنے عوام اور آئین کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔‘ ان کے خطاب کےدوران کم از کم چار بار ٹیلی فون کا رابطہ منقطع ہوا تھا جسے ایک بار تو سردار ذالفقار کھوسہ نے حکومت کی جانب سے ٹیلی فون جام کرنے کی کوشش قرار دیا۔ میاں نواز شریف نےپارلیمان کو ربڑ سٹیمپ قرار دیا اور کہا کہ اسی لیے ان کی جماعت کے اراکین نے پارلیمان سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ ’اگر بات اس وجہ سے رکی ہوئی ہے کہ پہلے کون استعفے دے گا تو پاکستان کو بچانے کی خاطر سب سے پہلے ان کی جماعت پارلیمان سے مستعفی ہوجائے گی۔‘ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ طے شدہ نکات پر چلتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔
جلسے سے چاروں صوبوں سے آئے رہنماؤں نے خطاب کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی موجودہ حکومت کی پالیسی صوبوں میں اختلاف پیدا کر رہی ہے جبکہ اپوزیشن اسے متحد کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ پیپلز پارٹی کے اعتزاز حسن نے کہا کہ ’خفیہ ایجنسیاں اب نیا کھیل کھیلنا چاہ رہی ہیں وہ پنجاب کو دوسرے صوبوں سے لڑانا چاہتی ہیں تاکہ عوام کی نفرت کا رخ فوج کی بجائے پنجاب کی طرف مڑ جائے۔‘ جئے سندھ قومی محاذ کے رہنما نے قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف سندھ میں آکر کہتے ہیں کہ پنجاب سندھ سے زیادتی کررہا ہے اورپنجاب میں آکر کہتے ہیں کہ کالاباغ ڈیم ضروری ہے انہوں نے کہا کہ عوام کو ان کے جھانسے میں نہیں آنا چاہیے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے رہنما عبدالرؤف مینگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ’ بلوچستان کے عوام کے لیے پنجاب کا احتجاج انتہائی ناکافی ہے انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان میں ہونے والے واقعات پر سندھ احتجاج کر رہا ہے پختونستان اظہار یک جہتی کر رہا ہے (ہڑتال کے روز ) صرف پنجاب کے شہر کھلے رہتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’حکومت کاساتھ دینے والوں کو اکبر بگٹی اور دیگر بلوچوں کا قاتل سمجھتے ہیں اور ان تمام جماعتوں کو بھی قاتل سمجھتے ہیں جو حکومت کی حامی ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے لوگ ہر حکمران کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے دارالحکومت میں ہونے والے جلسہ کے شرکاء کو مخاطب کرکے کہا کہ ’آپ آج بھی ان کے ساتھ آج بھی چودھریوں کی حکومت ہے اور انہیں آپ کی آشیر باد حاصل ہے۔‘ اے آر ڈی کے سربراہ مخدوم امین فہیم حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرحد اور بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب بہت ہوچکی ہے لیکن اب بھی وقت ہے کہ فوجی حکومت اقتدار چھوڑ کر عزت سے جاسکتی ہے۔ جلسے سے اے آر ڈی کے اقبال ظفر جھگڑا،تہمینہ دولتانہ، مخدوم شاہ محمود قریشی، قاسم ضیاء، سردار ذالفقار کھوسہ ایم ایم اے کے حافظ حسین احمد، لیاقت بلوچ، دیگر جماعتوں کے عبدالحئی بلوچ، عابدہ حسین، غلام مصطفی کھر اور نواب لشکری رئیسانی نے بھی خطاب کیا تاہم جلسہ کے منتظمین کے اعلانات کے برعکس مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمان نے شرکت کی اور نہ ہی پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو نے ٹیلی فونک خطاب کیا۔ | اسی بارے میں ’وفاق بچاؤ‘ ریلی کی تیاریاں09 September, 2006 | پاکستان پشاور میں پی پی پی کا مظاہرہ06 September, 2006 | پاکستان چوہدریوں پر تنقید: اسمبلی میں گرما گرما07 September, 2006 | پاکستان بی این پی نے استعفے دے دیئے04 September, 2006 | پاکستان نیویارک ٹائمز کا اداریہ: حکومت پر تنقید 04 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||