بی این پی نے استعفے دے دیئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچ قوم پرست جماعت، بلوچستان نیشنل پارٹی کے دو ممبران صوبائی اسمبلی نے استعفے سپیکر کے دفتر میں جمع کر دیئے ہیں۔ بی این پی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ممبر قومی اسمبلی راؤف مینگل قومی اسمبلی کے اجلاس کے روز اپنا استعفیٰ سپیکر کو پیش کریں گے جبکہ بی این پی کے واحد سینٹر ثنا اللہ بلوچ بیرون ملک ہیں وہاں سے اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔ اتوار کو بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور قوم پرست رہنما اختر مینگل نے اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت کے ارکان پیر کو صوبائی اور قومی اسمبلیوں اور سینیٹ سے مستعفیٰ ہو جائیں گے۔ اختر مینگل کی جماعت بی این پی نے اتوار کو نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور میت ورثا کے حوالے کیئے بغیر دفن کیئے جانے کے خلاف منعقداحتجاجی ریلیوں کے دوران اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اختر مینگل نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت سترہ ستمبر کو حزب اختلاف کے اجلاس میں شرکت کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔اکبر بگٹی کی جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے استعفوں کا اعلان نہ ہونے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہر جماعت کا کے اپنے ادارے ہوتے ہیں جو اپنے طریقے سے فیصلہ کرتے ہیں۔ دیگر بلوچ قوم پرست جماعتوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ بھی ان کی جماعت کے نقش قدم پر چلیں گی۔ اس سے قبل اتوار کو کوئٹہ میں منان چوک پر احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا تھا کہ ان اسمبلیوں میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے جہاں منظور شدہ قرار دادوں پر عمل نہ کیا جائے اور جہاں شہید اکابرین کے لیئے دعا بھی نہ کی جا سکے۔ اس اعلان کے بعد جلسے میں بیٹھے لوگوں نے خوب نعرہ بازی کی اور کافی دیر تک تالیاں بجاتے رہے۔ بی این اے کے بلوچستان اسمبلی میں دو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایک ایک رکن ہیں۔ جب کہ صوبے کے کچھ اضلاع میں ضلعی تحصیل اور یونین کونسل سطح پر ناظمین اور نائب ناظمین موجود ہیں۔ کوئٹہ کی ریلی میں اتحاد برائے بحالئی جمہوریت، چار جماعتی بلوچ اتحاد اور خود کو محکوم کہلوانے والی قوم پرست جماعتوں کا اتحاد پونم اور عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور بلوچستان میں فوجی آپریشن کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ نیشنل پارٹی کے سینیئر نائب صدر سردار ثناءاللہ زہری نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ہے یہ نہ تو اسلام میں روا ہے اور نا ہی قبائلی روایات میں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ بگٹی میں آپریشن کے دوران کیمیکل ہتھیار استعمال کییے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کو حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں سے ایک کے ساتھ ہونا ہوگا۔ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی احتجاجی ریلییاں منعقد ہوئی ہیں۔ پنجگور میں شدید کشیدگی تھی پنجگور کے تحصیل ناظم رحمدل بلوچ نے بتایا ہے کہ مظاہرین نے گرفتاریوں کے خلاف تھانے کو گھیرے میں لیا تھا لیکن کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر فائرنگ ہوئی ہے اور کچھ دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ نوشکی، دالبندین، ڈیرہ مراد جمالی، گوادر، تربت، قلات، سبی اور دیگر علاقوں میں پرامن ریلیاں نکالی گئیں۔ پسنی سے مقامی صحافی امام بخش نے بتایا ہے کہ پولیس نے یہاں صحافیوں کے خلاف بھی کارروائی شروع کر رکھی ہے اور بعض مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں مکران ڈویژن کے کئی شہروں میں منعقد ریلیوں میں پولیس کارروائی کی مذمت کی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں نواب اکبر بُگٹی سپرد خاک 01 September, 2006 | پاکستان نواب اکبر بُگٹی کی تدفین01 September, 2006 | پاکستان بلوچستان، سندھ اور سرحد میں ہڑتال01 September, 2006 | پاکستان تابوت میں کیا کچھ دفن ہوگیا02 September, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||