معطلی کا معاملہ، پونم کی ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے چیف جسٹس افتخار چودہری کی معطلی کے فیصلے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تیرہ مارچ کو کوئٹہ میں ہڑتال اور پرامن احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ کوئٹہ پریس کلب میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے عدلیہ کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے جو دنیا بھر میں بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔ محمود خان نے کہا کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں خصوصا متحدہ مجلس عمل اور اے آر ڈی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بھی تیرہ مارچ کو احتجاج کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت تیرہ مارچ کو کوئٹہ کے شہریوں سے ہڑتال کی اپیل کرتی ہے اور اس روز احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا اور قائدین جلسے سے خطاب کریں گے۔ پونم کے سربراہ نے کہا کہ ان کی جماعت کے انیس سو تہتر کے آئین کے حوالے سے تحفظات ہیں لیکن پھر بھی وہ اس کا تحفظ چاہتے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو کم سے کم نکات پر متحد ہو کر حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے کوششیں کرنی چاہیئیں۔ | اسی بارے میں ’ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے‘11 March, 2007 | پاکستان ’دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہی نہ تھی‘11 March, 2007 | پاکستان پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ11 March, 2007 | پاکستان ’وہ نظر بند نہیں‘ عظیم طارق 11 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||