BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 March, 2007, 19:15 GMT 00:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خودمختاری کانفرنس دِکھاوا ہے‘

سندھ میں سیاسی جماعتیں(فائل فوٹو)
مختلف سیاسی گروہوں نے کانفرنس کو دکھاوا قرار دیا
سندھ حکومت کی جانب سے صوبائی خود مختاری کے موضوع پر سیاسی جماعتوں سے تجاویز لینے کے لیے بدھ کو ایک کانفرنس کا انتظام کیا گیا ہے مگر پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، جئے سندھ قومی محاذ ، سندھ ترقی پسند پارٹی، عوامی تحریک اور سندھ نیشنل فرنٹ سمیت اہم سیاسی اور قوم پرست جماعتوں نے اس میں شریک ہونے سے انکار کردیا ہے۔

پی پی پی کے رہنما اور صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ یہ کانفرنس ایک ڈرامہ ہے جس میں پی پی پی شریک نہیں ہوگی۔

عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو نے اس کانفرنس کو اچھی کوشش قرار دیا مگر کہا کہ یہ فوجی حکومت میں ہو رہی ہے جس میں صرف نمائشی باتیں ہوں گی، عمل نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ مرکز کے پاس صرف تین محکمے ہونے چاہیں باقی تمام محکمے صوبوں کے حوالے کیے جائیں۔ ’اس وقت ہم لوگ مرکز کے غلام ہیں اس میں صوبائی خود مختاری کا لفظ اچھا ہے مگر اس کی معنی کچھ نہیں ہیں‘۔

جی ایم سید کی فکر کہ پیروکار جئے سندھ قومی محاذ کے چئرمین شبیر قریشی کا کہنا ہے کہ انہیں بھیک نہیں چا ہیے، سرزمین اور اس کی پیداوار کے مالک سندھی ہیں ۔ یہاں سے نکلنے والے تیل، گیس اور سمندر کی پیداوار پر سندھ کا حق مالکیت تسلیم کیا جائے۔ ان کے مطابق وہ سندھ کی آزاد حیثیت کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

جماعت اسلامی سندھ کے امیر مولانا اسداللہ بھٹو کا کہنا تھا کہ ’حکمران ٹولے کا رویہ سنجیدہ نہیں ہے‘۔ اس سے قبل بلوچستان کے مسئلے پر قومی اسمبلی کی ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تھی جسے صوبائی خود مختاری کے حوالے سے تجاویز دینی تھیں مگر آج تک ایوان میں اس کی رپورٹ پیش نہیں کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس صرف دکھاوے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی خود مختاری کی راہ میں صدر مشرف کی وردی رکاوٹ ہے کیونکہ اس وردی کی وجہ سے صوبوں کے تمام اختیارات مفلوج ہوچکے ہیں۔

کانفرنس کا انتظام سندھ کے محکمہ برائے بین الصوبائی امور نے کیا ہے۔ اس محکمے کے وزیر سہراب سرکی کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم اور حساس مسئلہ ہے۔ انہوں نے سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں کو اس کانفرنس میں مدعو کرکے اپنا فرض پورا کیا ہے اب ان کی مرضی ہے شریک ہوں نہ ہوں ۔

انہوں نے بتایا کہ اس کانفرنس میں جو بھی تجاویز ملیں گی ان کو وفاقی حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔ صوبائی خود مختاری کے حوالے سے وفاقی حکومت نے صوبوں سے تجاویز طلب کی تھیں، سندھ حکومت نے پہل کرتے ہوئے یہ کانفرنس طلب کی ہے، جس میں انہیں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم کے سربراہ محمود اچکزئی نےصوبائی نے خود مختاری کی اس بحث کو انتخابی مہم کا حصہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مظلوم قوموں کے احساس محرومی میں اضافہ ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد