صوبائی خودمختاری کی کمیٹی کا اجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے آئین میں ترمیم کرکے صوبائی خودمختاری دینے کے لیے وسیم سجاد کی سربراہی میں قائم پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس سنیچر کو منعقد ہوا۔ متحدہ حزب مخالف نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی حزب مخالف کی تمام جماعتوں کے رہنماؤں نے نیوز بریفنگ میں کہا کہ حکومت صوبائی خود مختاری دینے میں سنجیدہ نہیں اور جب بھی حکومت کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں تویہ صوبائی خود مختاری کا معاملہ چھیڑ دیتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما مخدوم امین اور رضا ربانی نے کہا کہ وسیم سجاد کی سربراہی میں کمیٹی بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے بنی لیکن بلوچ رہنماؤں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ان کے مطابق اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو بلوچستان کے متعلق مشاہد حسین کی کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرتی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے کہا کہ باجوڑ اور درگئی واقعات کے بعد حکومت نے ایک بار پھر پارلیمانی کمیٹیوں کا سہارا لینا شروع کر دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملات اب صوبائی خودمختاری سے آگے نکل چکے ہیں۔ اسفند یار کے مطابق مالاکنڈ میں واحد فوجی ہیڈ کوارٹر پرحملے کے بعد پینتالیس منٹ تک فوجی تڑپتے رہے لیکن ان کے اپنے ساتھی مدد کے لیے نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ درگئی میں بیالیس فوجی مارے گئے۔ جب ملک کے محافظ محفوظ نہیں تو وہ خود کو اس ملک میں کیسے محفوظ تصور کرسکتے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کے پروفیسر خورشید نے کہا کہ تمام جماعتوں نے اٹھارہ ماہ قبل اپنی سفارشات حکومت کو دیں لیکن ان پر کبھی غور نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی درگئی میں فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملے کے ہلاک شدگان کا جنازہ پڑھے دو روز بھی نہیں ہوئے کہ لاہور میں فوج کے سربراہ پرویز مشرف وزیراعلیٰ پنجاب نے موسیقی اور رقص کی محفلیں سجائیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ صوبائی خودمختاری کے بنا ملک نہیں چل سکتا اور آج کل کے قومی معاملات پر گول میز کانفرنس بلائی جانی چاہیے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما راجہ نادر پرویزنے جو سابق فوجی افسر بھی ہیں ، کہا کہ صدر مشرف کی پالیسیوں کی وجہ سے اب معاملات فاٹا سے فوجی چھاؤنیوں تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاک فوج نیٹو کے اول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے اور بلوچستان اور فاٹا فوجی چھاؤنیاں بنی ہوئی ہیں۔ قبل ازیں حکومت نے وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ سلیم سیف اللہ کو بھیجا کہ وہ حزب مخالف کے اراکین کو مناکر لائیں لیکن حزب مخالف نے معذرت کردی۔ اس کے باوجود بھی یکطرفہ طور پر حکومتی اراکین نے اجلاس منعقد کیا اور بریفنگ دیتے ہوئے وسیم سجاد نے کہا کہ اجلاس کے تمام حکومتی شرکاء کا کہنا ہے کہ صوبائی خودمختاری لازمی ہے۔ ان کے مطابق جب یہ کمیٹی بنی تو شازیہ خالد کا مسئلہ ہوا اور حالات کی خرابی کی وجہ سے تاخیر ہوتی رہی۔ وسیم سجاد نے یہ بھی کہا کہ کمیٹی نے طے کیا ہے کہ امریکہ، کنیڈا، بھارت، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں رائج نظام کا مطالعہ کرکے یہ کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔ ان کے مطابق آئندہ جلاس میں شرکت کے لیے حکومت اپوزیشن کو منانے کی کوشش کرے گی کیونکہ وہ انہیں ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات مرتب کرنے کا مقرر وقت تو وہ نہیں بتا سکتے لیکن اب یہ معاملہ مہینوں میں نہیں بلکہ ہفتوں میں طے ہوگا۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ وفاق کو کوئی خطرہ لاحق نہیں اور یہ اندرونی اختلافات گھریلو مسائل جیسے ہیں۔ | اسی بارے میں راکٹ ہم نے نہیں داغے: طالبان11 November, 2006 | پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب میں تبدیلیاں11 November, 2006 | پاکستان بلوچستان اسمبلی پر راکٹ حملہ؟11 November, 2006 | پاکستان ’قاتل کو معاف نہیں کریں گے‘11 November, 2006 | پاکستان درگئی اور باجوڑ: آخر تعلق کیا ہے؟11 November, 2006 | پاکستان بلوچستان اسمبلی کے چار سال 11 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||