درگئی اور باجوڑ: آخر تعلق کیا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
درگئی میں فوج کے تربیتی مرکز حملے کو پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے بلا تاخیر دس روز پہلے باجوڑ میں پاکستانی فوج کی بمباری میں اسی لوگوں کی ہلاکت کے واقعے سے نتھی کردیا۔ ذرا غور کیا جائے تو نہ تو بات اتنی سیدھی ہے اور نہ ہی اتنی عجلت میں کیے ہوئے اعتراف سے ختم ہونی چاہیے۔ پاکستانی فوج پر گزشتہ چند برسوں میں حملوں میں اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں گزشتہ دو برسوں میں فوج اور اس کے ماتحت نیم فوجی سیکیورٹی اداروں پر ہونے والے حملوں میں خود فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق کئی سو فوجی اور دوسرے اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ ساتھ ساتھ فوج کی اعلٰی قیادت پر بھی حملے ہوئے ہیں جو بجائے خود ایک قطعاً خلاف معمول بات ہے۔ بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے درگئی حملے کو اپنی نوعیت کا انتہائی منفرد حملہ قرار دیتے ہوئے فوج کے خلاف بےاطمینانی کو اس کا پس پردہ محرک بتایا۔ ان کے مطابق پاکستان میں فوج اور اس کے طرز عمل پر بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی اور نفرت کا موازنہ اگر کیا جاسکتا ہے تو وہ سابقہ مشرقی پاکستان کے آخری دنوں کے حالات ہوسکتے ہیں۔ اور پاکستانی فوج کو جس طرح کے سلوک کا سامنا مشرقی پاکستان میں کرنا پڑا وہ تواب تفصیل سےتاریخ کا حصہ ہے۔
غالباً درگئی حملے کا یہی پہلو سب سے زیادہ قابل توجہ بھی ہے۔ کراچی میں چاہے کورکمانڈر پر گھات لگا کر کیا گیا حملہ ہو یا جنرل مشرف پر ہونے والے کئی ناکام اور خودکش حملے، ان سب میں حملہ آور کا نشانہ ایک فرد کی ذات ہوتی تھی جس کے فیصلوں کی زد میں حملہ آور یا ان کے ساتھی براہ راست آتے تھے۔اس بات سے قطع نظر کہ ہدف کا تعلق کس ادارے سےہے، نشانہ بنانےکی بنیادی وجہ بظاہر فیصلہ کرنےوالےکا کردار نظر آتا تھا۔ اسی طرح بلوچستان اور جنوبی اور شمالی وزیرستان کے پہاڑوں میں فوج پر حملہ کرنے والے بھی وہی لوگ رہے ہیں جو یا تو خود یا پھر ان کے ساتھی اور عزیزواقارب نشانہ بننے والے انہی فوجی دستوں کی کارروائی کا ہدف ہوتے تھے۔ تاہم درگئی حملے کی توجیح ان میں سے کسی بھی وجہ کی روشنی میں نہیں کی جاسکتی۔ یہ البتہ بات بالکل سامنے کی ہے کہ درگئی میں مرنے والے بیالیس کے بیالیس فوجی صرف اس لیے مارے گئے کہ وہ پاکستانی فوج کی خاکی وردی پہنے ہوئے تھے۔ یہ بیالیس فوجی نہ تو فیصلہ کن اختیار رکھنے والے تھے نہ ہی بلوچستان یا ملک کے سرحدی قبائلی علاقے میں ملک کے روشن خیال اور اعتدال پسند ، لیکن وردی پوش صدر کی امریکہ کے سامنے جانثاری کے خلاف صف آراء لوگوں کی گوشمالی کررہے تھے۔ فوجی کارروائیوں سے متاثرہ کسی بھی علاقے سے دور اور فوجی چھاؤنیوں کے روایتی تزک و احتشام اور سخت حفاظت کے بغیر اس تربیتی مرکز میں فوجیوں کو نشانہ بنانے کی صرف ایک وجہ سمجھ میں آتی ہے ۔ فوج کی وردی میں ملبوس افراد کو ادارے کے کردار کا حصہ سمجھا گیا اور چونکہ ان پر حملہ ممکن تھا، لہٰذا نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ شاید اس لیے بھی کیا گیا کہ بھاری اسلحے اور جنگی جہازوں اور گن شپ ہیلی کوپٹروں سے لیس فوج اتنی قلعہ بند ہے کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں طالبان کے مقامی حامی ہوں یا بلوچستان میں گیس اور قدرتی وسائل پر اختیار چاہنے والے بلوچ اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو دفن کرنے کے بعد بھی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
یہ حملہ شاید اس لیے بھی ہوا کہ فوج کے ادارے میں فیصلہ کرنے والے اپنے اوپر ہونے والے کئی حملوں کے بعد اب اتنے محتاط ہوچکے ہیں کہ ان کو بھی ہدف بنانا شائد اب ممکن نہیں رہا۔ درگئی کے بیالیس چاہے انفرادی اور مخصوص افعال میں شریک نہ ہوں، ادارے کے مجموعی کردار میں وہ یقیناً شامل تھے اور شاید اسی کا خمیازہ بھی انہوں نے بھگتا۔ اگر درگئی کا خودکش حملہ کسی نئے رجحان کا آغاز ہے تو ذرا مستقبل کا تصور کیجیے کہ جہاں پاکستانی فوج کے کردار سے کسی بھی انداز میں متاثر ہونے والے پاکستانی ریاست سے بھی زیادہ طاقتور اس ادارے کو جیسے بھی، جتنا بھی اور جہاں بھی نقصان پہنچا سکیں گے، پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ اگر یہ کسی رجحان کی ابتداء ہے تو درگئی کے بعد اس کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا کہ مستقبل میں قبائلی اور شہری علاقوں میں فوجی اہداف میں کسی بھی طرح کی تمیز ہو گی یا فوج کے عسکری مراکز اور اس کے اہلکاروں کی رہائشگاہوں کو الگ الگ سمجھا جائے گا۔ اور یقیناً یہ ملکی سلامتی کے لیے انتہائی تشویشناک صورت حال ہو گی۔ یہ حملہ یوں بھی بہت اہم ہوجاتا ہے کہ غیرمحفوظ معمولی سپاہیوں پر ہونے والا یہ حملہ اگر یہ مان بھی لیں کہ کسی نئے رجحان کا آغاز نہیں، تو بھی بہت سے لوگوں کو یہ خیال تو دے ہی جاتا ہے کہ فوج صرف اس کے سپہ سالار اور چند جرنیلوں کا ہی نام نہیں۔ فوج کو پورے ملک میں اور بھی بہت سی جگہوں پر بھی تو نشانے پر رکھا جاسکتا ہے۔ اور اس تناظر میں اگر آفتاب شیرپاؤ اور جنرل شوکت سلطان کے بیانات کو دیکھیں تو بات کافی صاف ہوجاتی ہے کہ اوپر کے سارے امکانات غلط ہیں اور درگئی کا حملہ باجوڑ میں پاکستانی فوج کی کارروائی کا وقتی ردعمل ہے اور کچھ نہیں۔۔۔اللہ اللہ خیر سلا۔۔۔کون نہ مرجائے اس سادگی پہ۔۔۔۔ خوش قسمتی سے درگئی کی ذمہ داری باجوڑ کے ردعمل پر ڈالنے کے سیاسی فوائد بھی خاصے ہیں۔ فوری طور پر تو اس دھول کی آڑ میں متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ تابعداری پر مائل کیا جاسکتا ہے اور اگر یوں بات نہ بنے تو الزام کو مقدمے کی شکل دیکر سنجیدہ دھمکی میں بھی باآسانی ڈھالا جاسکتا ہے۔ اس تمام کے ساتھ ساتھ یہ فائدہ تو ہے ہی کہ اس حملے کے نتیجے میں فوج کے کردار اور معاشرے میں اس کے خلاف بڑھتے ہوئے ردعمل کو موضوع بحث بننے سے روک دیا جائے۔ آخر موضوع بحث حقوق نسواں بل بھی تو ہوسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں باجوڑ ایجنسی: نو مشتبہ قبائلی رہا21 October, 2006 | پاکستان مدرسے پر فوج کی بمباری، ’80 افراد ہلاک‘30 October, 2006 | پاکستان مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک30 October, 2006 | پاکستان باجوڑ حملے کے بعد کس نے کیا کیا؟31 October, 2006 | پاکستان مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک31 October, 2006 | پاکستان ’ان پر دنیا کا ہم پر اللہ کادباؤ ہے‘31 October, 2006 | پاکستان حکومت کو مطلوب مولوی فقیر کون؟01 November, 2006 | پاکستان یومِ احتجاج: ’جہاد اور انتقام‘ کا عہد31 October, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||