BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 March, 2007, 01:31 GMT 06:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چلتے ہو تو سپریم کورٹ کو چلیے‘

اسلام آباد
اسلام آباد کی سڑکوں کو خاردار تار لگا کر بند کیا گیا تھا
ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے کہ کسی بھی بڑے ’نیوزایونٹ‘ کی کوریج کے معاملے میں صحافیوں اور حکومت کے مفاد میں خاصا تضاد پایا جاتا ہے۔

اسی لیے جب سرکار کی طرف سے یہ اعلان ہوا کہ غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر صحافیوں کو عدالت تک لے جانے کا سرکاری بندوبست کیا گیا ہے تو اسے صحافی برادری کی جانب سے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

اس پر حکومت کے محکمۂ اطلاعات کو یہ کہنا پڑا کہ سرکاری بس کے علاوہ کوئی بھی صحافی اپنے طور پر جمعہ کو سپریم کورٹ تک نہیں پہنچ سکے گا۔

یہ ایسی ’دھمکی’ تھی کہ چار و نہ چار تمام اخبارات اور نیوز چینلز کو اپنے رپورٹر سرکاری سرپرستی میں سونپنے پڑے۔ یہ بندوبست اس لیے بھی ضروری تھا کہ غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کے باعث اسلام آباد میں زندگی عملاً مفلوج ہو چکی تھی۔

سپریم کورٹ کو جانے والی شاہراہ دستور کو صبح ہی سے ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا تھا۔ پولیسں اور رینجرز کی مدد سے سپریم کورٹ کے اردگرد کا علاقہ مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا اور کسی کو پیدل بھی سپریم کورٹ کی جانب جانے کی اجازت نہیں تھی۔

اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے ہر صحافتی ادارے نے ایک، ایک صحافی محکمہ اطلاعات کے حوالے کر تو دیا لیکن یہ ایک طرح سے اس محکمے کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف تھا کیونکہ وہ تمام صحافی جو علی الصبح محکمہ اطلاعات کی عمارت کے سامنے کھڑی سرکاری بس میں موجود تھے ان میں سے بیشتر میری طرح وہ نہیں تھے جو حکومت سمجھ رہی تھی یعنی سپریم کورٹ کی کوریج ان کی ذمہ داری نہیں تھی۔

ناکوں کے درمیان دو کلومیٹر کا فاصلہ اسلام آباد کی سڑکوں پر لگے پہروں نے اتنا طویل کر دیا کہ جب سپریم کورٹ کے آثار نظر آئے تو بس کے باہر اور اندر کے حالات خاصے تبدیل ہو چکے تھے۔

تو پھر اس تردد کا کیا مقصد؟ بات وہی ہے کہ اعتبار کی کمی۔ خبری ادارے یقین نہیں کر سکے کہ حکومت اتنی مہربان ہو گئی کہ ایک ایسے ایونٹ کو جس کی کوریج حکومت کے لیے پہلے ہی درد سر بن چکی ہو، کور کرنے کے لیے سرکاری طور پر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ساتھ ہی یہ خوف بھی چیف رپورٹر صاحبان کو دامن گیر کہ اگر سرکاری دھمکی سچ ثابت ہوئی سڑکوں پر پولیس راج ہوا تو؟ خیر خدشات میں گھرے خبری اداروں نے اپنے ’ڈمی‘ کورٹ رپورٹرز سرکار کے حوالے کر کے اپنے اصل صحافی پیدل سپریم کورٹ روانہ کیے۔

اور یوں دن کے آغاز کے ساتھ میں نے خود کو اس آرام دہ ائرکنڈیشنڈ بس کی کھڑکی سے باہر جھانکتے پایا۔ خدشہ یہی تھا کہ دن بھر گھوم گھما کر سپریم کورٹ کا وقت ختم ہوتے ہوتے ہمیں ’رہا‘ کر دیاجائے گا لیکن دل میں ایک موہوم سی امید بھی کہ بی بی سی کا دوسرا کوئی رپورٹر سپریم کورٹ نہیں پہنچ پائے گا اور اس دن کی ساری خبریں میری ملکیت ٹھہریں گی۔ لیکن ’ خدا ہی ملا نہ وصال صنم’۔

سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر پولیس کے ناکوں پر سے بغیر رکے گزرنا اچھا لگا لیکن ابھی اس وی آئی پی کلچر کا مزا آنا شروع ہی ہوا تھا کہ ایوانِ دستور کے آثارگاڑیوں کی ایک لمبی قطارکی صورت نظر آئے۔

ایک بورڈ پر لکھا تھا ’ ایوان دستور ہر طرح کی ٹریفک کے لئے بند ہے براہ کرم متبادل کے طور پر ایمبیسی روڈ استعمال کریں‘۔ مجھ سمیت بس میں بیٹھے صحافیوں نے اس بورڈ پر اچٹتی سی نظر ڈالی اور فخریہ انداز سے کھڑکی سے باہر گاڑیوں کے ہجوم کو دیکھنے لگے جو ٹریفک پولیسں کے ایک اشارے پر واپسی کی راہ لے رہے تھے۔

شاہراِہ دستور ہر طرح کی ٹریفک کے لیے بند تھی

ایسے میں اچانک میری نظر صدر مملکت کے چیف آف سٹاف لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ حامد جاوید پر پڑی جن کی سفید رنگ کی پرائیویٹ کار رینگتے ہوئے پولیس چوکی کی طرف رواں تھی۔ فخر کے احساس سے میں سیدھا ہو کے بیٹھ گیا کہ اس ہجوم میں سے صرف دو ہی گاڑیاں کامیابی سے یہ چیک پوسٹ کراس کر سکیں گی ایک جنرل کی اور ایک ہماری۔

لیکن پولیس کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جنرل حامد تو گئے، پر ہمیں روک لیا گیا۔ گاڑی میں بیٹھے محکمہ اطلاعات کے افسران نے وردی والوں کو بہت سمجھایا، فون کروائے اور غصہ دکھایا پر سب بے سود۔ ہم واپس ہوئے اور مڑتے مڑتے انفارمیشن آفیسر نے خفت بھری آواز میں دھیرے سے میرے کان میں کہا’یہ ناکہ گریڈ بیس سے اوپر والوں کے لیے(کھلا) ہے‘۔

گریڈ سترہ کے اس افسر کے بقول ہماری گاڑی کا اندراج شاہراہ دستور کے دوسرے کونے پر لگے ناکے پر ہے۔ اس ناکے اور اُس ناکے کے درمیان دو کلومیٹر کا فاصلہ اسلام آباد کی سڑکوں پر لگے پہروں نے اتنا طویل کر دیا کہ جب سپریم کورٹ کے آثار نظر آئے تو بس کے باہر اور اندر کے حالات خاصے تبدیل ہو چکے تھے۔

باہر پیدل صحافی پہلے سے موجود تھے جو تمام ناکوں کو پھلانگتے، توڑتے ہم سے پہلے سپریم کورٹ پہنچ چکے تھے اور اندر مایوسی کے بادل پوری طرح چھا چکے تھے۔

گریڈ سترہ کے انفارمیشن افسر نے صورتحال کو خوب بھانپا اور اعلان کیا کہ ابھی تھوڑی دیر میں سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے لگے سرکاری ٹینٹ میں جو کھانا پیش کیا جائے گا وہ ان صحافیوں کے لئے مختص ہے جو سرکاری بس میں آئے ہیں۔

تو بی بی سی کے پیدل نمائندے نے تمام دن کی کارروائی رپورٹ کر کے داد سمیٹی اور میرے حصے آیا سرکاری لنچ بکس جس میں سے سینڈوچ بھی چوری کیا جا چکا تھا۔

اسی بارے میں
اسلام آباد کے راستے بند
16 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد