سڑکوں پر ناکے، لوگوں پہ شیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خوشگوار موسم کے لیے معروف شہر اسلام آباد جمعہ کے دن اتنا گرم ہوجائے گا یہ اندازہ کم ہی لوگوں کو تھا۔ شہر کے داخلی راستوں پر سکیورٹی تو رات سے ہی سخت کر دی تھی لیکن اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہم بھی اسلام آباد کے خطرناک راستوں پر نکل پڑے۔ اطلاع یہ تھی کہ فیض آباد کے قریب پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا ہے۔ دفتر میں صبح کی بریفنگ میں فیصلہ ہوا کہ مجھے فوراً ہی فیض آباد پہنچنا چاہیے۔ اپنی طرح ہی اسلام آباد کے راستوں سے ناواقف ڈرائیور کے ساتھ میں فیض آباد لاری اڈے پر پہنچا تو وہاں زندگی معمول پر تھی ۔ بطور رپورٹر مجھے دکھ ہو رہا تھا کے کتنی دور سے دوڑتا ہوا آیا ہوں اور یہاں لاٹھی چارج بھی نہیں ہو رہا۔
آفس میں ساتھی کو اطلاع کرنے کے بعد میں ویسے ہی راولپنڈی کا چکر لگانے کے ارادے سے مری روڈ پر چل نکلا۔مری روڈ کے فیض آباد پر پولیس کی بھاری نفری نے ناکہ لگا رکھا تھا۔ راولپنڈی کے ایس ایس پی کی سربراہی میں کئی سو پولیس اہلکار اسلام آباد جانے والی پرائیویٹ اور پبلک ساری گاڑیوں کی تلاشی لے رہے تھے اور جس کسی گاڑی میں ان کو کالے کوٹ والا کوئی بھی بظاہر معزز شخص دکھائی دے رہا تھا وہ اسے زبردستی گاڑی سے اتار کر قریب ہی کھڑی پولیس کی قیدیوں کے لیے مخصوص گاڑی میں بٹھا کر تھانے لے جا رہے تھے۔ راولپنڈی پولیس کی یہ پریکٹس صبح سے جاری تھی اور کئی کالے کوٹ تھانہ بدر ہو چکے تھے۔ وہاں پر کھڑے ایک راہگیر نے میرے ہاتھ میں مائیک دیکھ کر کہا آپ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے ہمارے بچے کو کیوں پکڑا ہے ۔آصف نام ہے اس کا اور قریب کے ہوٹل پر کام کرتا ہے ۔ابھی پکڑ کر اس گاڑی میں بٹھایا ہے نام بھی نہیں بتا رہے۔قیدیوں والی گاڑی ہر طرف سے بند تھی اور پولیس بھی بچے کے بارے میں کچھ نہیں بتا رہی تھی۔
اسی تلاشی کے دوران آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار عبدالقیوم بھی ایک گاڑی میں سوار وہاں سے گزرے۔وہاں کھڑے ایک اکھڑ سپاہی نے ان کی گاڑی بھی روک دی۔ بعد میں ایک پولیس افسر نے سردار عبدالقیوم کو دیکھ کر سپاہی کو بس کنڈکٹر جیسی ،جانے دو، کی آواز دی اور ان کی گاڑی چل پڑی۔ اسی ناکے پر ایک سدا بہار ٹائپ پولیس افسر جاوید سے ملاقات ہوئی جس نے اپنا تعارف ایس پی سکیورٹی راول ڈویژن کے طور پر کرایا۔ وہ بڑے منجھے ہوئے اور عوام کو تکالیف دینے والی سرگرمیوں میں ماہر قسم کے پولیس افسر لگ رہے تھے۔جب میں نے ان سے مائیک پر انٹرویو لیا تو انہوں نے بتایا کہ پولیس ناکہ عوام کی سہولت کی خاطر لگایا گیا ہے تا کہ ان کو راستوں کے بارے میں آگاہ کرتے رہیں۔ کسی کو نہیں روک رہے آپ کو کسی نے روکا؟ نہیں نہ تو اور کسی کو کیوں روکیں گے۔ مائیک بند ہونے کے بعد انہوں نے بڑا قہقہہ لگا کر کہا آپ نے بھی بڑے سوال کیے لیکن میں نے بھی آپ کو بتایا کچھ نہیں۔ اس مختصر گفتگو کے بعد وہ پھر اپنی ڈیوٹی میں لگ گیا اور کئی وکلاء کو اس نے گاڑیوں سے اتار کر زبردستی پولیس وین میں بٹھاتا رہا۔ کچھ وکلاء کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں لیکن پولیس نے ان کو اسلام آباد جانے نہیں دیا۔
پولیس کا یہ تکلیف دہ کھیل گزشتہ کئی گھنٹوں سے مری روڈ فیض آباد پر جاری تھا۔اور جب ہم وہاں سے نکلنے لگے تو بھی یہ بغیر کسی وقفے کے جاری تھا۔ مری روڈ کے بعد ہم سیدھے کشمیر ہائی وے سے ٹول پلازہ تک پہنچ گئے۔ ٹول پلازہ پر صرف مشکوک گاڑیوں کو روکا اور چیک کیا جا رہا تھا۔ وہاں پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹبلری کی بھاری نفری موجود تھی۔ اسلام آباد میں ویسے تو سکیورٹی سخت ہی رہتی ہے لیکن سولہ مارچ کو یہ سکیورٹی اتنی سخت تھی کہ مارشل لاء تو نہیں لیکن سافٹ مارشل لاء کا گمان ضرور ہو رہا تھا۔ یہ احساس مجھے تب شدت سے ہوا جب پارلیمنٹ کے سامنے پنجاب پولیس نے بڑی موج میں آ کر آنسو گیس کے شیل چلائے اور جیو ٹی وی کے دفتر پر اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے چڑھائی کردی۔ میں ابھی راستے میں ہی تھا کہ وہاں موجود ایک دوست کا فون آیا اور میں شہر کے بند پٹرول پمپوں اور جگہ جگہ پر کھڑی پولیس رکاوٹوں سے ہوتا ہوا جب وہاں پہنچا تو کافی دیر ہوچکی تھی لیکن لوگوں کا غصہ اور آنسو گیس کی کڑواہٹ ماحول میں ابھی موجود تھی۔ میں ابھی کچھ آوازیں ریکارڈ ہی کر رہا تھا کہ اطلاعات کے وزیرمملکت طارق عظیم جیو دفتر کے سامنے گاڑی سے اترے۔
وہ ابھی دفتر کی سیڑھیاں چڑھ ہی رہے تھے کہ ایک جذباتی نوجوان نے بڑی اونچی آواز میں ان کو مخاطب ہو کر کہا ’بڑے بےغیرت اور بے شرم لوگ ہیں آپ وکلاء کے بعد ابھی میڈیا کو بھی مارو گے شرم کرو حکمرانو۔‘ اتنی موٹی موٹی گالیاں سن کر بھی وزیر کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا اور وہ دفتر کے اندر چلے گا۔ باہر صحافی حکومت مخالف نعرے لگانے لگے۔ ’آزاد صحافت زندہ باد‘ اور ’ہم چھین کے لیں گے آزادی‘ جیسے ان کے نعرے سامنے کھڑے پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی صحت پر ان کے حاکموں کی طرح کوئی اثر نہیں ڈال رہے تھے۔ افسر سے لے کر ڈھول سپاہی تک کا یہ اکڑ پن پاکستان جیسے ملک میں کوئی نئی بات تو نہیں لیکن کہتے ہیں کے وکلاء اور صحافیوں کا احتجاج اگر آپس میں مل جائے تو حاکموں کا وقت بہت تنگ گزرنے لگتا ہے اور وہ دن گنتے رہتے ہیں۔ دیکھیں کے اعتدال پسندی کے اس دور میں یہ بات جھوٹ نکلتی ہے یا سچ! |
اسی بارے میں چیف جسٹس کی معطلی11 March, 2007 | منظر نامہ لاہور، اسلام آباد: مظاہرے، جھڑپیں اورگرفتاریاں16 March, 2007 | پاکستان احتجاج، گرفتاریاں: صدارتی ریفرنس کی سماعت آج16 March, 2007 | پاکستان ’جسٹس افتخار سے نہیں مل پایا‘16 March, 2007 | پاکستان شریف الدین کا بھی حکومت کو انکار15 March, 2007 | پاکستان ’اعتزاز کو ملنے دیا جائے‘15 March, 2007 | پاکستان عدالتی بحران پر نظر ہے: امریکہ15 March, 2007 | پاکستان ’ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے‘11 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||