عدنان عادل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | مظاہرین جنرل مشرف کی تصویر جلاتے ہوئے |
صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے معاملے پر ردعمل کو اپنے خلاف ایک ’سازش‘ قرار دیا اور کہا کہ ان کا جسٹس افتخار سے کوئی ’ذاتی اختلاف‘ نہیں ہے۔ سنیچر کے روز پاکپتن میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس کے معاملہ پر مدافعانہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا چیف جسٹس سے ذاتی مسئلہ یا اختلاف نہیں‘ اور ان کا اس ریفرنس سے کوئی عمل دخل نہیں۔ صدر پرویز مشرف نے کہا کہ حکومت نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجا تھا جسے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنا ان کا آئینی فرض تھا۔ ’میرے خلاف سازش ہو رہی ہے اور سیاست کے ذریعے مجھے نیچا دکھانے کی کوشش کی جاری ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ سازش پاکستان کے خلاف ہورہی ہے اور عوام اسے ناکام بنانے میں ان کا ساتھ دیں۔ دریں اثناء پنجاب، سندھ اور صوبہ سرحد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جسٹس افتخار کی حمایت کرنے والے وکلاء نے سنیچر کو عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور لاہور میں پولیس اور وکیلوں کی درمیان پرتشدد جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ |