جسٹس افتخار کا مقدمہ اور مقدمے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو فروری 2000 میں اس وقت سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا جب چھ ججوں نے پی سی او کے تحت جنرل مشرف سے وفاداری کا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری سن 2000 کے بعد سپریم کورٹ کے سامنے آنے والے تقریباً تمام بڑے آئینی مقدموں میں شریک رہے ہیں۔ فوج کا اقتدار پر قبضہ بارہ اکتوبر 1999 کو جنرل مشرف نےمنتخب حکومت کا تختہ الٹ کی خود کو چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز کر لیا۔ اقتدار پر فوجی حملے کا مقدمہ ملک کی اعلی ترین عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ جسٹس ارشاد حسن خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بارہ رکنی بینچ نے نہ صرف فوجی ایکشن کو نظریہ ضرورت کے تحت ٹھیک قرار دیا بلکہ فوجی حکمران کو قانون سازی کی وہ طاقت بھی عطا کر دی جو خود سپریم کورٹ کے پاس بھی نہیں تھی۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری اس بارہ رکنی بینچ کے ایک ممبر تھے۔ ریفرنڈم مقدمہ ریفرنڈم کا انعقاد بھی اسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ہوا جس کی سربراہی میں جنرل مشرف کے فوجی اقتدار کو نظریہ ضرورت کے تحت ٹھیک قرار دیا گیا تھا۔
متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے جب جنرل مشرف کے انتخاب کو اس بنیاد پر چیلنج کیا کہ آئین میں ریفرنڈم کی سہولت کےذریعے اہم قومی امور پر عوام کی رائے لی جاسکتی ہے اور وہ صدر کے الیکشن سے متعلق آئینی طریقہ کار کا نعم البدل نہیں ہو سکتا تو سپریم کورٹ نے اس درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ چونکہ آئین معطل ہے لہذا جنرل مشرف عوام سے ووٹ حاصل کرنے کا جو بھی راستہ چنا ہے وہ صیح ہے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری اس بینچ بھی موجود تھے۔ جنرل مشرف کی وردی کا مقدمہ متحدہ مجلس عمل کے تعاون سے پاس ہونے والی سترہویں ترمیم کے ذریعے جنرل مشرف کو 2007 تک صدر مان لیا گیا لیکن جب جنرل مشرف فوجی وردی اتارنے سے متعلق قوم سے خطاب میں کیے گئے وعدے سے پھر گئے تو پاکستان لائیرز فورم نے سترہویں ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ سپریم کورٹ نے جنرل مشرف کو دو عہدے رکھنے کو اس بنیاد پر جائز قرار دیا کہ اس کو عوام کی منتخب پارلیمنٹ نےمنظور کیا لہذا عدالت کچھ نہیں کر سکتی۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری اس بینچ میں بھی شامل تھے۔ حسبہ بل ریفرنس مشرف پر قاتلانہ حملہ لاپتہ افراد کا مقدمہ
جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مبینہ طور پر حکومتی ایجنسیوں کی طرف سے لاپتہ کیے جانے والے افراد کا از خود نوٹس لے کر کئی لوگوں کو رہا کرایا۔ اس مقدمے کی کارروائی حکومت سے رپورٹ منگوانے سے آگے نہ بڑھی۔اس مقدمے میں حکومت کی پیروی کرنے والے وکیل ناصر سعید شیخ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ حکومتی برتاؤ کے خلاف احتجاجاً مستفعٰی ہو چکے ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری جیسے جج کے خلاف ایسا سخت اقدام آخر کیوں اٹھایا گیا۔جب سن 2007 میں جنرل مشرف کو دوبارہ `منتخب‘ کروانے کے لیے، ماتحت جمہوریت کو دوبارہ شروع کرنے کا سال ہے ۔جنرل مشرف کو شاید ایک اور ارشاد حسن خان کی ضرورت ہے؟ |
اسی بارے میں وکلاء جسٹس افتخار سے مل سکتے ہیں19 March, 2007 | پاکستان کئی جج مستعفی، مظاہرے اور ہڑتالیں جاری19 March, 2007 | پاکستان پاکستان بھر میں احتجاج جاری19 March, 2007 | پاکستان عدالتوں میں ’معائنہ ٹیمیں‘20 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||