BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 March, 2007, 19:40 GMT 00:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس افتخار کا مقدمہ اور مقدمے

جسٹس افتخار محمد چوہدری اس بارہ رکنی بینچ کے ایک ممبر تھے جس نے اقتدار پر جنرل مشرف کے قبضے کو نظریہ ضرورت کے تحت ٹھیک قرار دیا
’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو فروری 2000 میں اس وقت سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا جب چھ ججوں نے پی سی او کے تحت جنرل مشرف سے وفاداری کا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری سن 2000 کے بعد سپریم کورٹ کے سامنے آنے والے تقریباً تمام بڑے آئینی مقدموں میں شریک رہے ہیں۔


فوج کا اقتدار پر قبضہ

بارہ اکتوبر 1999 کو جنرل مشرف نےمنتخب حکومت کا تختہ الٹ کی خود کو چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز کر لیا۔ اقتدار پر فوجی حملے کا مقدمہ ملک کی اعلی ترین عدالت میں چیلنج کیا گیا۔

جسٹس ارشاد حسن خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بارہ رکنی بینچ نے نہ صرف فوجی ایکشن کو نظریہ ضرورت کے تحت ٹھیک قرار دیا بلکہ فوجی حکمران کو قانون سازی کی وہ طاقت بھی عطا کر دی جو خود سپریم کورٹ کے پاس بھی نہیں تھی۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری اس بارہ رکنی بینچ کے ایک ممبر تھے۔

ریفرنڈم مقدمہ
سپریم کورٹ کی طرف سے عنایت کی جانے والی تین سالہ مدتِ اقتدار کے خاتمے پر جنرل مشرف نے بھی اپنے پیش رو جنرل ضیا الحق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے آپکو ریفرنڈم کے ذریعے ”منتخب‘ کروانے کا فیصلہ کیا۔

ریفرنڈم کا انعقاد بھی اسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ہوا جس کی سربراہی میں جنرل مشرف کے فوجی اقتدار کو نظریہ ضرورت کے تحت ٹھیک قرار دیا گیا تھا۔

بدھ کو وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا

متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے جب جنرل مشرف کے انتخاب کو اس بنیاد پر چیلنج کیا کہ آئین میں ریفرنڈم کی سہولت کےذریعے اہم قومی امور پر عوام کی رائے لی جاسکتی ہے اور وہ صدر کے الیکشن سے متعلق آئینی طریقہ کار کا نعم البدل نہیں ہو سکتا تو سپریم کورٹ نے اس درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ چونکہ آئین معطل ہے لہذا جنرل مشرف عوام سے ووٹ حاصل کرنے کا جو بھی راستہ چنا ہے وہ صیح ہے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری اس بینچ بھی موجود تھے۔

جنرل مشرف کی وردی کا مقدمہ

متحدہ مجلس عمل کے تعاون سے پاس ہونے والی سترہویں ترمیم کے ذریعے جنرل مشرف کو 2007 تک صدر مان لیا گیا لیکن جب جنرل مشرف فوجی وردی اتارنے سے متعلق قوم سے خطاب میں کیے گئے وعدے سے پھر گئے تو پاکستان لائیرز فورم نے سترہویں ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔

سپریم کورٹ نے جنرل مشرف کو دو عہدے رکھنے کو اس بنیاد پر جائز قرار دیا کہ اس کو عوام کی منتخب پارلیمنٹ نےمنظور کیا لہذا عدالت کچھ نہیں کر سکتی۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری اس بینچ میں بھی شامل تھے۔

حسبہ بل ریفرنس
صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے صوبے میں اسلام طرز زندگی متعارف کرانے کے لیے حسبہ بل پاس کرایا جس کے بارے صدر مشرف نےسپریم کورٹ سے رائے لینے کے لیےایک ریفرنس بھیجا۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ایک بینچ نےصدر کو رائے دینے کے بجائے خود ہی گورنر کو حکم جاری کر دیا کہ حسبہ بل پر دستخط نہ کریں۔ قانونی ماہرین کے خیال میں سپریم کورٹ نے جنرل مشرف کا ہاتھ بٹھانے کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے راستے میں روڑے اٹکائے اور جنرل مشرف کو ڈھال مہیا کی۔

مشرف پر قاتلانہ حملہ
جنرل مشرف پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ کرنے کے الزام میں کئی لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا جا چکا ہے۔اسی طرح کی چار اپیلیں جسٹس افتخار محمد چوہدری کے سربراہی میں کام کرنے والے تین رکنی بینچ نے بھی مسترد کر دیں۔ اس بینچ کےسامنے یہ دلیل بھی دی گئی کہ جس حملے میں کوئی شخص ہلاک ہی نہیں ہوا ہے تو لوگوں کو پھانسی کی سزا دینے کا کیا جواز ہے لیکن پھانسی کا حکم برقرار رکھا گیا۔

لاپتہ افراد کا مقدمہ

حسبہ بل کا معاملہ
 صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے صوبے میں اسلام طرز زندگی متعارف کرانے کے لیے حسبہ بل پاس کرایا جس کے بارے صدر مشرف نےسپریم کورٹ سے رائے لینے کے لیےایک ریفرنس بھیجا۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ایک بینچ نےصدر کو رائے دینے کے بجائے خود ہی گورنر کو حکم جاری کر دیا کہ حسبہ بل پر دستخط نہ کریں

جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مبینہ طور پر حکومتی ایجنسیوں کی طرف سے لاپتہ کیے جانے والے افراد کا از خود نوٹس لے کر کئی لوگوں کو رہا کرایا۔ اس مقدمے کی کارروائی حکومت سے رپورٹ منگوانے سے آگے نہ بڑھی۔اس مقدمے میں حکومت کی پیروی کرنے والے وکیل ناصر سعید شیخ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ حکومتی برتاؤ کے خلاف احتجاجاً مستفعٰی ہو چکے ہیں۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری جیسے جج کے خلاف ایسا سخت اقدام آخر کیوں اٹھایا گیا۔جب سن 2007 میں جنرل مشرف کو دوبارہ `منتخب‘ کروانے کے لیے، ماتحت جمہوریت کو دوبارہ شروع کرنے کا سال ہے ۔جنرل مشرف کو شاید ایک اور ارشاد حسن خان کی ضرورت ہے؟

عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
پہلا تحریری بیان
جسٹس افتخار جوڈیشل کونسل کے سامنے
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
جسٹس افتخارچیف جسٹس معطل
جسٹس افتخار کی جگہ جسٹس جاوید کا تقرر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد