حکومت ریفرنس پر تذبذب کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس کی سماعت سے متعلق تذبذب کا شکار ہوگئی ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کا مطالبہ ہے کہ ان کے خلاف ریفرنس کی سماعت بند کمرے کی بجائے کھلی عدالت میں ہو۔ حکومتی مشیروں میں شریف الدین پیرزادہ کا خیال ہے کہ حکومت کو ریفرنس کی کارروائی کھلی عدالت میں پیش کرنے سےگھبرانا نہیں چاہیے۔ شریف الدین پیزادہ کو ابتدائی طور پر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کے معاملے سے علیحٰدہ رکھا گیا تھا لیکن اب شریف الدین پیزادہ سے بھی مشورے لیے جا رہے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت میں کروانے کے مخالف حکومتی مشیروں کا مؤقف ہے کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت میں ہوئی تو جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء خصوصاً اعتراز احسن اس کو سیاسی رنگ دیں گے۔ ایک حکومتی مشیر نے بی بی سی ڈاٹ کام کو بتایا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلے عام ہوئی تو اعتزاز احسن ’گند سے بھرے ٹوکرے جوڈیشل کونسل کے کئی اراکان پر ڈالیں گے اور ان کو روکنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔‘
حکومت کو یہ ڈر ہے کہ اگر کونسل کو کارروائی کھلی عدالت میں کروانے کا فیصلہ ہو گیا تو سپریم جوڈیشل کونسل کے کچھ اراکان شاید از خود ہی کونسل میں شمولیت سے دستبردار ہو جائیں جس سے حکومت کے مسائل میں اضافہ ہو جائے گا۔ جسٹس رانا بھگوان داس کی واپسی کے بعد سپریم جوڈیشل کی از سر نو تشکیل کے بعد کونسل کا اجلاس تین اپریل ہوگا جس میں جسٹس افتخار کی طرف سے کونسل کے کچھ اراکان پر کیے جانے والے اعتراضات پر دلائل سنے جائیں گے۔ تین اپریل کو ہونے والی سماعت میں ریفرنس کی کارروائی بند کمرے میں رکھی جائے یا اسے کھلی عدالت میں لایا جائے۔ حکومتی مشیروں کو ڈر ہے کہ اگر جسٹس افتخار محمد چوہدری کا معاملہ کھلی عدالت میں آ گیا تو ایسے سوالات بھی اٹھ سکتے ہیں کہ کون سا جج 1600 سی سی کار میں سفر کرتا ہے اور کس حکومتی عہدیدار کو کتنی کاریں رکھنے کا اختیار ہے اور در حقیت کتنی کاریں ان کے استعمال میں ہیں۔ جسٹس افتخارمحمد چودھری پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو چیف منسٹر کے کوٹے سے میڈیکل کالج میں داخلہ دلوایا۔ حکومتی مشیروں کا خیال ہے کہ اگر کارروائی کھلے عام ہوئی تو کئی ججوں پر ایسے اعتراضات اٹھ سکتے ہیں۔ حکومت کو صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے کسی معروف قانون دان کی خدمات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔ سابق وزیر قانون خالد رانجھا ریفرنس میں حکومتی وکلاء پینل کے سربراہی کریں گے اور ان کی معاونت کے لیے ایڈوکیٹ جنرل راجہ قریشی اور عبد الرحمن کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق سینٹ کے چیئرمین وسیم سجاد بھی سرکاری وکلاء کی مدد کے لیے کمرہ عدالت میں موجود رہیں گے۔ |
اسی بارے میں جسٹس افتخار، بار کونسلوں سے خطاب21 March, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا مقدمہ اور مقدمے 22 March, 2007 | پاکستان وکلاء جسٹس افتخار سے مل سکتے ہیں19 March, 2007 | پاکستان یوم تاسیس: جسٹس افتخار مدعو19 March, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار پر پابندیاں برقرار17 March, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار پر پابندیاں ختم کریں16 March, 2007 | پاکستان ’جسٹس افتخار سے نہیں مل پایا‘16 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||