جسٹس افتخار، بار کونسلوں سے خطاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معطل چیف جسٹس کے وکلاء نے حکومت کی جانب سے صدارتی ریفرنس کی سماعت کے التواء کو وکلاء کی تحریک کو دبانے کا حربہ قراردیتے ہوئے اپنی آئندہ حکمتِ عملی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت جسٹس افتخار ملک کی مختلف بار کونسلز سے خطاب کریں گے۔ سپریم کورٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس افتخار کے وکلاء منیر اے ملک، حامد خان، قاضی انور، علی احمد کرد اور طارق محمود ایڈوکیٹ نے کہا کہ ان کی جانب سے ریفرنس کی سماعت کے التواء کی کوئی درخواست نہیں کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے سماعت مؤخر کرنے کا فیصلہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کے کہنے پر کیا ہے اور اس کا اصل مقصد وکلاء کے احتجاج کو ختم کرنا ہے۔ جسٹ افتخار کے وکلاء کا کہنا تھا کہ اب جبکہ صدراتی ریفرنس افشا ہو چکا ہے اس کی سماعت کھلی عدالت میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مٰؤکل (جسٹس افتخار) کا مطالبہ ہے کہ اس ریفرنس کی سماعت نہ صرف کھلی عدالت میں ہو بلکہ روزانہ ہو۔ وکلاء نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ آئندہ سماعت سے قبل معطل چیف جسٹس اٹھائیس مارچ کو لاہور اور تیس مارچ کو پشاور کی بار ایسوسی ایشنز سے خطاب کریں گے جبکہ تین اپریل کو سماعت کے موقع پر عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس افتخار محمد پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب میں شرکت کے لیے جہاز کی بجائے گاڑی میں جائیں اور پشاور کے راستے میں آنے والے اضلاع کی بار ایسوسی ایشن ان کا استقبال کریں گی۔ یاد رہے کہ جسٹس افتخار کے خلاف ریفرنس کی سماعت آج یعنی اکیس مارچ کو ہونا تھی تاہم بیس تاریخ کو اسے مؤخر کرنے کا اعلان کیا گیا اور اب یہ سماعت تین اپریل کو اپریل کو ہو گی۔ | اسی بارے میں ملک بھر میں مظاہرے، کوئٹہ میں لاٹھی چارج21 March, 2007 | پاکستان پاکستان کے ڈپٹی اٹارنی جنرل احتجاجاً مستعفی20 March, 2007 | پاکستان انکوائری، ہائی کورٹ جج کریں گے20 March, 2007 | پاکستان یوم احتجاج سے پہلے درجنوں گرفتار20 March, 2007 | پاکستان ’سماعت ملتوی نہیں کی جاسکتی‘20 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||